World
ایران میں گرائے جانے والے امریکی پائلٹ کا پہلا انٹرویو
ایران میں مار گرائے جانے والے امریکی پائلٹ نے اپنے طیارے کے حادثے اور اس کے بعد کے حالات پر تفصیلی بات چیت کی ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ انہوں نے بازیابی کے بعد اس خوفناک واقعے کے بارے میں کھل کر گفتگو کی ہے۔
ایران میں رواں برس اپریل کے مہینے میں پیش آنے والے ایک ڈرامائی واقعے میں مار گرائے جانے والے امریکی پائلٹ نے ریسکیو کے بعد اپنے پہلے انٹرویو میں طیارہ گرنے اور اس کے بعد پیش آنے والے خوفناک لمحات کی تفصیلات بیان کی ہیں۔ پائلٹ نے یاد کرتے ہوئے بتایا کہ کس طرح ان کا طیارہ دشمن کی کارروائی کی زد میں آیا اور وہ فضا میں مشکل ترین حالات کا شکار ہو گئے۔ اس دوران انہیں شدید چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا اور وہ اپنی جان بچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے تھے۔ اس واقعے کے بعد امریکی تاریخ میں ایک اہم موڑ اس وقت آیا جب اپریل میں ہونے والے اس ریسکیو آپریشن کے دوران 46 سالوں میں پہلی بار امریکی فوجیوں نے براہ راست ایرانی سرزمین پر قدم رکھا، جس کی تصدیق امریکی حکام کی جانب سے بھی کی گئی ہے۔ یہ آپریشن انتہائی خطرناک اور حساس نوعیت کا حامل تھا جس میں امریکی عسکری قیادت کو انتہائی نپا تلا قدم اٹھانا پڑا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس مشن کی کامیابی میں تمام متعلقہ اداروں اور ریسکیو ٹیموں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں نے بنیادی کردار ادا کیا جنہوں نے پائلٹ کو بحفاظت نکالنے کے لیے دن رات ایک کر دیا۔ پائلٹ کا یہ انٹرویو ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اس پورے واقعے کے تزویراتی اور سیاسی اثرات اب بھی عالمی سطح پر زیر بحث ہیں۔ مبصرین کے مطابق یہ واقعہ خطے میں کشیدگی اور عسکری حرکیات کے تناظر میں ایک انتہائی اہم باب کی حیثیت رکھتا ہے، جس پر بین الاقوامی برادری کی بھی گہری نظر ہے۔ پائلٹ کی جانب سے بیان کیے گئے یہ سنسنی خیز انکشافات اس مشن کی مشکلات اور امریکی فوج کی ریسکیو صلاحیتوں کی عکاسی کرتے ہیں، جو طویل عرصے تک یاد رکھی جائیں گی۔