World
نائجر میں بغاوت اور روس پر بڑھتا ہوا انحصار
نائجر میں حالیہ اقتدار پر قبضے کی کوشش نے فوج کے اندر پائے جانے والے گہرے خدشات کو ظاہر کر دیا ہے۔ اس واقعے نے نائجر کے اپنے سہیلی اتحادیوں کے ساتھ تعلقات کو بھی ایک بڑے امتحان میں ڈال دیا ہے۔
نائجر میں اقتدار پر قبضے کی حالیہ کوشش نے ملک کی فوج کے اندر موجود گہرے اور پرانے خدشات کو کھل کر سامنے لے آیا ہے۔ اس ناگہانی صورتحال نے نہ صرف ملکی سلامتی کے اداروں کو ہلا کر رکھ دیا ہے بلکہ خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ جڑے توازن کو بھی شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اس بحران سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ نائجر کی موجودہ عسکری قیادت اپنی سلامتی اور بقا کے لیے بیرونی طاقتوں، خاص طور پر روس پر کس قدر زیادہ انحصار کرنے لگی ہے۔ نائجر کا شمار افریقہ کے سہیلی خطے کے ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں دہشت گردی اور اندرونی شورش کے خلاف جنگ میں غیر ملکی تعاون کو بنیادی حیثیت حاصل رہی ہے۔ تاہم، اقتدار حاصل کرنے کی اس کشمکش نے اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ روایتی مغربی شراکت داریوں سے ہٹ کر اب نئے سفارتی اور عسکری محور تشکیل پا رہے ہیں۔ روس کی اس خطے میں بڑھتی ہوئی رسائی اور اثر و رسوخ نے سکیورٹی کے شعبے میں ایک نیا موڑ لے لیا ہے، جس پر بین الاقوامی سطح پر بھی گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ اس بحران نے نائجر کی سہیلی اتحادی ریاستوں کے ساتھ تعلقات کو بھی ایک کڑے امتحان سے دوچار کر دیا ہے۔ خطے کے ممالک جو پہلے ہی سلامتی کے شدید بحرانوں کا شکار ہیں، اب نائجر کے اس اندرونی سیاسی اور عسکری اتھل پتھل کے اثرات سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر عسکری صفوں میں پائے جانے والے یہ اختلافات اور بیرونی طاقتوں پر بڑھتا ہوا انحصار اسی طرح جاری رہا، تو نائجر اور پورا سہیلی خطہ طویل مدتی عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے، جس کے اثرات عالمی سیاست پر بھی مرتب ہوں گے۔