LIVE
Loading Breaking News...

شام میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے پر حکومت مخالف مظاہرے

News Image
حکومت کی جانب سے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اچانک اور نمایاں اضافے کے بعد شام کے مختلف شہروں میں شدید مظاہرے شروع ہو گئے۔ شہریوں نے مہنگائی کے اس طوفان کے خلاف سڑکوں پر نکل کر حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔
شام کے مختلف شہروں میں حکومت کی جانب سے ایندھن کی قیمتوں میں کیے جانے والے ہوشربا اضافے کے خلاف شدید احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے ہیں۔ سرکاری سطح پر پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھائے جانے کا اعلان سامنے آتے ہی شہریوں میں شدید غم و غصہ پایا گیا، جس کے نتیجے میں لوگ بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ پہلے ہی سے جاری شدید معاشی بحران اور مہنگائی نے عام آدمی کی کمر توڑ رکھی ہے، اور ایسے میں ایندھن کی قیمتوں میں مزید اضافہ عوام کے لیے زندگی گزارنا ناممکن بنا دے گا۔ ملک کے کئی علاقوں میں ٹریفک معطل ہو گئی اور کاروباری مراکز بھی احتجاجاً بند رکھے گئے۔ مظاہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر ایندھن کی قیمتوں میں کیا گیا اضافہ واپس لے تاکہ عوام کو اس معاشی عذاب سے نجات مل سکے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور ملکی معیشت کو درپیش چیلنجز کی وجہ سے یہ قدم اٹھانا ناگزیر ہو گیا تھا، تاہم عوامی ردعمل کے پیش نظر صورتحال کشیدہ بنی ہوئی ہے۔ سکیورٹی فورسز کو بھی حساس مقامات پر تعینات کر دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹا جا سکے، جبکہ دوسری جانب سول سوسائٹی اور مقامی رہنماؤں کی جانب سے صورتحال کو پرامن طریقے سے حل کرنے کی اپیل کی جا رہی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر حکومت نے اس بحران سے نمٹنے کے لیے فوری طور پر کوئی ریلیف پیکج کا اعلان نہ کیا تو احتجاج کا یہ سلسلہ ملک کے دیگر حصوں تک بھی پھیل سکتا ہے، جس سے پہلے سے غیر مستحکم سیاسی اور معاشی صورتحال مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے۔