LIVE
Loading Breaking News...

افغان میڈیکل طلباء کی پاکستان میں تعلیم جاری رکھنے کی اپیل

News Image
پاکستان میں میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے والے افغان طلباء نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے واپسی کے احکامات کو مسترد کرتے ہوئے اپنی تعلیم مکمل کرنے کی اپیل کی ہے۔ طلباء بالخصوص طالبات کا کہنا ہے کہ افغانستان میں خواتین کی تعلیم پر پابندی کے باعث ان کا مستقبل تاریک ہو جائے گا۔
پشاور میں پاکستان کے میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں زیر تعلیم افغان طلباء نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کے حالیہ احکامات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے جن میں انہیں اپنے وطن واپس جانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ طلباء نے حکومت سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ پہلے سے داخلہ لینے والے طلباء بالخصوص طالبات کو اپنی ڈگریز مکمل کرنے کی اجازت دے کیونکہ افغانستان میں موجودہ حالات کے تحت خواتین کے لیے تعلیم کے دروازے بند ہیں۔ خیبر میڈیکل کالج کے فائنل ایئر کے طالب علم اور افغان طلباء کے ترجمان عنایت اللہ مہمند کے مطابق اس وقت پاکستان کے مختلف میڈیکل کالجوں میں تقریباً ایک ہزار افغان طلباء زیر تعلیم ہیں جن میں تین سو پچاس کے قریب طالبات بھی شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پی ایم ڈی سی کے اس فیصلے سے طلباء میں شدید بے چینی پھیل گئی ہے، خاص طور پر وہ طالبات سخت ذہنی دباؤ کا شکار ہیں جن کے لیے افغانستان واپسی کا مطلب تعلیم کا مکمل خاتمہ ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ متاثرہ طلباء میں وہ دو سو کے قریب نوجوان بھی شامل ہیں جو اپنی ہاؤس جاب مکمل کر چکے ہیں اور اب سپیشلائزیشن پروگرامز کے منتظر ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ پاکستان کی پالیسی کی مخالفت نہیں کرتے لیکن پرانے طلباء کو اس سے استثنا دیا جانا چاہیے تاکہ ان کا قیمتی سال اور مستقبل بچ سکے۔ دوسری جانب، لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے پی ایم ڈی سی کے احکامات کو عارضی طور پر معطل کیے جانے کے باوجود طلباء میں عدم تحفظ کا احساس برقرار ہے۔ کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والی تیسرے سال کی طالبہ نجمہ بیبی کا کہنا ہے کہ یہ ریلیف عارضی ہے اور ہاسٹل خالی کرنے کے نوٹسز نے ان کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ علامہ اقبال اسکالرشپ کے تحت پاکستان آنے والی ایک اور طالبہ نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ افغانستان میں طالبان کی جانب سے خواتین کی تعلیم پر عائد پابندی کے بعد ان کے لیے وہاں جا کر پڑھنا ناممکن ہے۔ انہوں نے وزیراعظم اور اعلیٰ حکام سے اپیل کی کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ان کے تعلیمی کیریئر کو بچایا جائے تاکہ وہ ڈاکٹر بن کر معاشرے کی خدمت کرسکیں۔ یاد رہے کہ یکم ستمبر کو پی ایم ڈی سی نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی تھی کہ وہ افغان طلباء کی واپسی کے لیے ضروری انتظامی کارروائی اور این او سی کا اجراء یقینی بنائیں، جس پر افغان طلباء نے انتہائی تشویش کا اظہار کیا ہے۔