LIVE
Loading Breaking News...

کورنگی کریک کراچی میں مینگرووز کی غیر قانونی کٹائی اور لینڈ گریبتھنگ

News Image
کراچی کے کورنگی کریک میں زمین پر قبضے کی غرض سے غیر قانونی بند باندھ کر مینگرووز کے جنگلات کو خشک کرنے اور کاٹنے کا سلسلہ جاری ہے۔ ماہرینِ ماحولیات نے انتباہ جاری کیا ہے کہ مینگرووز کے خاتمے سے کراچی کے ساحلی علاقے طوفانوں اور سمندری خطرات کے سامنے غیر محفوظ ہو جائیں گے۔
کراچی کے ساحلی علاقے کورنگی کریک میں زمین پر قبضے کے لیے مینگرووز کے قیمتی جنگلات کو نقصان پہنچانے کا انتہائی تشویشناک معاملہ سامنے آیا ہے۔ ایک غیر قانونی بند تعمیر کر کے جنگل کے وسط میں قدرتی پانی کے بہاؤ کو روک دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے ایک طرف کے مینگرووز کو ضروری پانی کی فراہمی بند ہو چکی ہے۔ پانی نہ ملنے کی وجہ سے جب یہ پودے اور درخت سوکھ جاتے ہیں تو زمین پر قبضہ کرنے والے عناصر انہیں کاٹ کر اس جگہ کو رقبے میں تبدیل کر رہے ہیں۔ یہ سارا عمل کورنگی کریک میں قائم بائیو ڈائیورسٹی پارک کے بالکل قریب انجام دیا جا رہا ہے جسے گزشتہ سال ستمبر میں مئیر کراچی مرتضیٰ وہاب نے افتتاح کیا تھا۔ اس صورتحال پر جب سندھ فاریسٹ ڈپارٹمنٹ سے رابطہ کیا گیا تو ذمہ دار حکام نے اعتراف کیا کہ یہ غیر قانونی سرگرمی محکمہ کی زمین پر جاری ہے۔ تاہم، محکمہ جنگلات کا کہنا ہے کہ پولیس اس معاملے میں کارروائی کرنے سے گریزاں ہے کیونکہ پولیس کا موقف ہے کہ یہ زمین بورڈ آف ریونیو کی جانب سے الاٹ کی گئی ہے اور یہ معاملہ عدالت میں زیرِ سماعت ہے۔ محکمہ جنگلات کے مطابق وہ اس سے قبل بھی کئی بار اس غیر قانونی بند کو ہٹانے کی کوشش کر چکے ہیں لیکن فریقِ مخالف کی جانب سے عدالت سے رجوع کیے جانے کے بعد پولیس نے مزید کارروائی سے ہاتھ کھینچ لیا ہے جب تک قانونی پیچیدگیاں حل نہیں ہوتیں، محکمہ تنہا کارروائی نہیں کر سکتا۔ ماحولیات اور موسمیاتی تبدیلی کے ماہرین نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ماہرِ ماحولیات رفیع الحق کا کہنا ہے کہ کراچی کے ساحلی علاقوں میں اس طرح کی غیر قانونی کٹائی طویل عرصے سے جاری ہے جس سے ساحلی پٹی کمزور ہو رہی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مینگرووز کا یہ جنگل کراچی اور ملحقہ علاقوں بالخصوص ڈی ایچ اے اور کورنگی کو سونامی اور سمندری طوفانوں سے بچانے کے لیے ایک قدرتی ڈھال کا کام دیتا ہے۔ اگر اس قدرتی حفاظتی حصار کو ختم کر دیا گیا تو کسی بھی بڑے قدرتی حادثے یا طوفان کی صورت میں کراچی کے ساحلی علاقوں کو شدید تباہی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ماہرینِ ماحولیات مسعود لوہار اور طارق الیگزینڈر قیصر کا بھی یہی کہنا ہے کہ پاکستان میں ماحولیاتی تحفظ کے قوانین موجود ہیں مگر ان پر سختی سے عمل درآمد کرانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ کراچی کے پاس پہلے ہی سبزہ اور جنگلات کی شدید کمی ہے اور شہر مزید درختوں اور مینگرووز کے نقصان کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کو فوری طور پر اس غیر قانونی لینڈ گریبتھنگ اور مینگرووز کی کٹائی کے خلاف سخت ترین کارروائی کرنی چاہیے تاکہ شہر کے ماحولیاتی توازن کو محفوظ بنایا جا سکے۔