LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان میں ریاستی نظام کا بحران اور انتظامی اصلاحات کی ضرورت

News Image
موجودہ ملکی صورتحال میں ریاستی نظام کی کارکردگی اور اس کی بنیادی کمزوریوں پر گہری بحث جاری ہے۔ ٹیکس وصولی کے لیے مرکزی نظام اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لیے اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کو اس بحران کا اہم حل قرار دیا جا رہا ہے۔
ملک میں صوبائی حدود کی تبدیلی اور اختیارات کی تقسیم پر جاری بحث کے دوران یہ دیکھنا انتہائی ضروری ہے کہ اس وقت داؤ پر کیا لگا ہوا ہے۔ موجودہ نظام کے خامیوں کا شکار ہونے کا اعلان کرنے والے ماہرین کے مطابق، ریاستی نظام کو درپیش سب سے بڑے مسائل میں آئینی بالادستی اور ریاست کی قانونی حیثیت کا فقدان سرفہرست ہے۔ اس کے علاوہ معاشی نمو کی کمی اور سماجی ترقی کے اشاریوں میں تعطل وہ بنیادی معاملات ہیں جن پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ وزیر داخلہ کی جانب سے سسٹم کے بیٹھ جانے کی بات کی جائے تو اس کا بنیادی محرک پاکستانی ریاست خود ہے، جو اپنے فرائض کو موثر طریقے سے نبھانے میں مشکلات کا شکار ہے۔ ریاستی فرائض کو بنیادی طور پر دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے، جن میں پہلا حصہ وسائل کی وصولی یعنی عوام سے ٹیکس یا دیگر واجبات لینا ہے، اور دوسرا حصہ عوام کو خدمات کی فراہمی یعنی تعلیم، صحت اور امن و امان کی فراہمی ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ پاکستان میں ٹیکس وصولی اور خدمات کی فراہمی دونوں کا ریکارڈ زیادہ شاندار نہیں رہا ہے۔ ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا اور نجی شعبے کے رویوں کو ضابطے میں لانا ہمیشہ سے ایک بڑا چیلنج رہا ہے۔ تاہم، حالیہ برسوں میں ریاست نے بجلی کے بلوں کی بروقت وصولی اور تنخواہ دار طبقے سے سخت ٹیکسوں کے ذریعے کٹوتی کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے، جو کہ مرکزی نظام اور صوابدیدی اختیارات کے خاتمے کا نتیجہ ہے۔ اس کے برعکس، عوامی خدمات کی فراہمی اور سماجی ترقی کا معاملہ بالکل مختلف ہے۔ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ سماجی ترقی کے شعبے میں سب سے بڑی بہتری اس وقت دیکھنے میں آئی جب اختیارات نچلی سطح تک منتقل کیے گئے۔ اسکول کونسلز اور مقامی سطح پر اسکولوں کی نگرانی سے خواندگی کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ اسی طرح بنیادی صحت کے مراکز کو خود مختاری دینے سے مریضوں کو بہتر سہولتیں ملیں۔ سال 2011 کے بعد صوبائی سطح پر اختیارات کے ارتکاز سے صحت اور تعلیم کے شعبوں میں ترقی کی رفتار سست پڑ گئی ہے اور بعض علاقوں میں یہ جمود کا شکار ہو چکی ہے۔ ان تمام امور کا جائزہ لینے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ پاکستان کو درپیش ترقیاتی چیلنجز کے لیے کوئی ایک کلیہ سب پر لاگو نہیں ہو سکتا۔ ٹیکسوں کی وصولی جیسے امور میں صوابدیدی اختیارات کو کم کرنے اور خودکار نظام کی ضرورت ہے تاکہ سختی سے عمل درآمد ہو سکے، جب کہ بنیادی خدمات کی فراہمی کے لیے اختیارات کو نچلی سطح تک یعنی گراس روٹ لیول تک منتقل کرنا ناگزیر ہے۔ حقیقی وکندریقره (Decentralization) کے بغیر نچلی سطح پر مسائل کا حل اور احتساب ممکن نہیں ہے، جس کے لیے پالیسی سازوں کو سنجیدگی سے سوچنا ہوگا۔