LIVE
Loading Breaking News...

وزیر اعظم کی طرف سے چھوٹی گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کے لیے فیول سبسڈی کا اعلان

News Image
وزیر اعظم شہباز شریف نے ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی آسمان کو چھوتی قیمتوں کے تناظر میں موٹر سائیکلوں، رکشوں اور آٹھ سو سی سی گاڑیوں کے لیے ایک خصوصی ریلیف اسکیم کا اعلان کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد مہنگائی کے اس دور میں عام آدمی اور کم آمدنی والے طبقے کو ایندھن کے بڑھتے ہوئے بوجھ سے ریلیف فراہم کرنا ہے۔
اسلام آباد میں حکومت کی جانب سے ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے اثرات کو کم کرنے کے لیے ایک اہم فیصلہ کیا گیا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے ملک میں آسمان کو چھوتی ایندھن کی قیمتوں کے پیش نظر موٹر سائیکلوں، آٹو رکشوں اور 800cc تک کی چھوٹی گاڑیوں کے لیے ایک خصوصی ریلیف اسکیم کا اعلان کر دیا ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد مہنگائی کے اس کڑے دور میں عام آدمی، طلباء، مزدوروں اور روزانہ کی بنیاد پر سفر کرنے والے افراد کو ریلیف فراہم کرنا ہے جو بڑھتے ہوئے فیول ٹیکسوں اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے شدید معاشی دباؤ کا شکار ہیں۔ اس نئے امدادی پیکج کے نفاذ اور تفصیلات سے آگاہ کرنے کے لیے وفاقی وزراء نے ایک اہم پریس کانفرنس بھی کی جس میں بتایا گیا کہ حکومت کم آمدنی والے طبقے کو تنہا نہیں چھوڑے گی۔ حکومتی ذرائع کے مطابق، ملک میں جاری معاشی چیلنجز اور ایندھن پر عائد بھاری ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبے عوام کو براہ راست فائدہ پہنچانے کے لیے اس اسکیم کے طریقہ کار کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔ اس ریلیف کے ذریعے خاص طور پر ٹرانسپورٹ کے نچلے درجے کو نشانہ بنایا گیا ہے تاکہ کرایوں میں بے پناہ اضافے کو روکا جا سکے اور اشیائے ضروریہ کی نقل و حرکت پر پڑنے والے منفی اثرات کو بھی زائل کیا جا سکے۔ عوام کی طرف سے اس ریلیف اسکیم کا خیرمقدم کیا جا رہا ہے کیونکہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے نے متوسط اور غریب طبقے کے ماہانہ بجٹ کو بری طرح متاثر کیا تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے ہدف شدہ اقدامات سے مہنگائی کے طوفان سے عارضی طور پر ہی سہی لیکن مؤثر تحفظ ملتا ہے۔ وزیر اعظم کی جانب سے اعلان کردہ اس پیکج کے عملی نفاذ کے لیے متعلقہ اداروں کو فوری ہدایات جاری کر دی گئی ہیں تاکہ جلد از جلد مستحق افراد تک اس ریلیف کی رسائی کو یقینی بنایا جا سکے اور عوام کے لیے نقل و حمل کے اخراجات میں کمی لائی جا سکے۔