LIVE
Loading Breaking News...

سعودی پائپ لائن پر حملے کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافہ

News Image
سعودی عرب کی اہم پائپ لائن پر ڈرون حملوں کے بعد تیل کی سپلائی کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں، جس کے نتیجے میں بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں تین فیصد سے زائد اضافہ دیکھا گیا ہے۔ برینٹ خام تیل کی قیمت ایک سو آٹھ ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے۔
عالمی منڈی میں توانائی کے بحران کے خدشات اس وقت شدت اختیار کر گئے جب سعودی عرب کی اہم مشرقی مغربی پائپ لائن پر ڈرون حملے کیے گئے۔ ان حملوں کے نتیجے میں پائپ لائن کی تنصیبات کو نقصان پہنچا اور حفاظتی اقدامات کے تحت فوری طور پر تیل کی ترسیل معطل کر دی گئی۔ اس ناگپہاں واقعے کے بعد بین الاقوامی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں تین فیصد سے زائد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس سے دنیا بھر میں مہنگائی اور معاشی سست روی کی نئی لہر کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ میڈیا رپورٹس اور سیٹلائٹ تصاویر سے انکشاف ہوا ہے کہ حملے کے نتیجے میں پائپ لائن کے مختلف حصوں کو کافی نقصان پہنچا۔ ماہرین کے مطابق، یہ پائپ لائن خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کے متبادل کے طور پر انتہائی اہمیت کی حامل ہے، جو تیل کی ترسیل کو براہ راست بحیرہ احمر تک پہنچاتی ہے۔ آبنائے ہرمز کے راستے میں پہلے ہی کشیدگی کے بادل منڈلا رہے تھے، اور اس اہم متبادل راستے کی بندش نے عالمی توانائی مارکیٹ کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ حملے کی اطلاع ملتے ہی برینٹ خام تیل کی قیمتوں میں یک دم اچھال آیا اور یہ ایک سو آٹھ ڈالر فی بیرل کی سطح سے تجاوز کر گئیں۔ معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر پائپ لائن کی مرمت اور بحالی کا کام طویل ہوا تو عالمی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی فراہمی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔ اس صورتحال نے دنیا بھر کے ممالک کو اپنے اسٹریٹجک ذخائر کے استعمال پر غور کرنے پر مجبور کر دیا ہے تاکہ صنعتی سرگرمیوں کو جاری رکھا جا سکے۔ حکام کی جانب سے پائپ لائن کی بندش اور حملے کی تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ متاثرہ حصوں کی جلد مرمت کے لیے بھی ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اس واقعے نے ایک بار پھر مشرق وسطیٰ میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی سکیورٹی اور عالمی سپلائی چین کے تحفظ پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں، جس پر عالمی رہنماؤں اور اقتصادی اداروں نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔