LIVE
Loading Breaking News...

سیم آلٹ مین کا مصنوعی ذہانت کے خطرناک مستقبل پر انتباہ

News Image
چیٹ جی پی ٹی کے سربراہ سیم آلٹ مین نے مصنوعی ذہانت کے مستقبل کے حوالے سے دنیا کو ممکنہ سنگین خطرات سے آگاہ کر دیا ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر ٹیکنالوجی کی دوڑ کو مناسب طریقے سے نہ روکا گیا تو اس کے بھیانک نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔
مصنوعی ذہانت (AI) کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی دنیا میں جہاں ایک طرف نت نئی سہولیات متعارف کروائی جا رہی ہیں، وہیں دوسری طرف اس کے ممکنہ منفی اثرات پر بھی دنیا بھر میں بحث چھڑ گئی ہے۔ حال ہی میں چیٹ جی پی ٹی بنانے والی کمپنی اوپن اے آئی کے سربراہ سیم آلٹ مین نے مصنوعی ذہانت کے مستقبل کے حوالے سے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دو ایسے اہم طریقوں کی نشاندہی کی ہے جن کے ذریعے اے آئی کا سفر انتہائی خطرناک اور تباہ کن سمت اختیار کر سکتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر اس ٹیکنالوجی کی رفتار اور اس کے استعمال کو کنٹرول کرنے کے لیے موثر اقدامات نہ کیے گئے تو معاشرے کو سنگین بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ دوسری جانب دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کی رفتار کو سست کرنے کے حوالے سے بھی مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔ جہاں کچھ محققین اور ماہرینِ اخلاقیات اس ٹیکنالوجی کی بے لگام ترقی کو انسانیت کے لیے خطرہ قرار دے رہے ہیں، وہیں کچھ بڑے ادارے اور تحقیقی مراکز اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ ترقی کے اس سفر کو روکنا ممکن نہیں ہے۔ حالیہ دنوں میں بعض اہم محققین کی جانب سے بھی اس قسم کے خدشات کا اظہار کیا گیا ہے کہ اے آئی کے نظام تیزی سے قابو سے باہر ہوتے جا رہے ہیں، جو آنے والے وقت میں سکیورٹی کے بڑے چیلنجز پیدا کر سکتے ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس ٹیکنالوجی کی دوڑ میں عالمی طاقتیں بھی آمنے سامنے آ رہی ہیں۔ حال ہی میں چین کے سرکاری اخبار نے اینتھروپک نامی ادارے کی جانب سے مصنوعی ذہانت کی ترقی کو سست کرنے کے مطالبات کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ایک سرد جنگ کی حکمت عملی قرار دیا ہے۔ ان تمام چیلنجز کے باوجود، یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ مصنوعی ذہانت کا مستقبل نہ صرف تکنیکی بلکہ سیاسی اور سماجی لحاظ سے بھی انتہائی پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے، جس کے لیے عالمی سطح پر ضابطہ اخلاق کی اشد ضرورت ہے۔