Business
تیل کی ترسیل مہنگی اور مشکل، عالمی منڈی میں ہلچل
مشرق وسطیٰ اور بحیرہ احمر کی کشیدہ صورتحال کے باعث تیل بردار جہازوں کے کرایوں میں ہوشربا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ نئے حملوں کے خطرات کے پیش نظر سپلائی چین شدید دباؤ کا شکار ہے۔
عالمی سطح پر توانائی کی ترسیل کا نظام اس وقت شدید ترین چیلنجز سے دوچار ہے کیونکہ خام تیل کی نقل و حمل نہ صرف انتہائی خطرناک بلکہ روز بروز مہنگی ہوتی جا رہی ہے۔ مشرق وسطیٰ بالخصوص خلیجی خطے اور بحیرہ احمر میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور نئے حملوں کے خطرات نے تیل کی سپلائی لائنوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ جہاز رانی کی صنعت سے وابستہ کمپنیوں کو شدید سیکیورٹی خدشات کا سامنا ہے جس کے باعث انشورنس کے اخراجات اور فریٹ چارجز آسمان کو چھو رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ایران سے منسلک جنگی اور کشیدہ حالات کے نتیجے میں بعض فریٹ فنڈز اور بحری جہازوں کے کرایوں میں حیرت انگیز طور پر ہزاروں فیصد تک کا ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اس غیر معمولی اضافے نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں اور اس کی درآمدی لاگت کو براہ راست متاثر کیا ہے، جس کے اثرات اب دنیا بھر کی معیشتوں پر پڑنے لگے ہیں۔ تاجروں اور توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال عالمی مہنگائی کو مزید ہوا دے سکتی ہے۔
سعودی عرب اور دیگر اہم تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنصیبات اور بحری راستوں پر ہونے والے حالیہ حملوں نے توانائی کے تحفظ کے حوالے سے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ بہت سے بحری جہازوں نے طویل اور محفوظ تر متبادل راستے اختیار کرنا شروع کر دیے ہیں، جس کی وجہ سے سفر کا وقت اور ایندھن کا خرچ دونوں بڑھ گئے ہیں۔ یہ بحران اس بات کا عکاس ہے کہ جغرافیائی سیاسی تنازعات عالمی تجارت اور سپلائی چین کو کتنی جلدی مفلوج کر سکتے ہیں۔