Business
ایل این جی کی بلند قیمتیں: ایشیائی ممالک کا متبادل توانائی کی طرف رجحان
بلند قیمتوں اور سات ارب ڈالر کے بھاری گیس بل کے باعث ترقی پذیر ایشیائی ممالک کا مائع قدرتی گیس (ایل این جی) پر انحصار کم ہونے لگا ہے۔ یہ ممالک اب بڑھتے ہوئے اخراجات اور عالمی بحران کے پیش نظر متبادل توانائی کے ذرائع کی تلاش پر غور کر رہے ہیں۔
عالمی منڈی میں مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور سات ارب ڈالر کے بھاری گیس بل نے ترقی پذیر ایشیائی ممالک کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے، جس کے بعد ان ممالک کا ایل این جی سے انحراف یا رجحان کم ہونے لگا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال اور سپلائی چین میں رکاوٹوں کی وجہ سے ایشیائی خریداروں کو شدید مالیاتی دباؤ کا سامنا ہے۔ بھارت اور پاکستان سمیت کئی دیگر ترقی پذیر ایشیائی ممالک مہنگی اسپاٹ ایل این جی خریدنے پر مجبور ہیں، جس سے ان کے قومی خزانے پر بوجھ بڑھ رہا ہے۔ صورتحال اس وقت مزید سنگین ہوئی جب پاکستان کو مسلسل تیسری بار اسپاٹ کارگو حاصل کرنے میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا، جو کہ ملک میں توانائی کے بحران کو مزید گہرا کرنے کا سبب بن رہا ہے۔ دوسری طرف، ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے دوران ایشیائی خریداروں نے اسپاٹ ایل این جی کی مد میں خطیر رقم خرچ کی ہے، جس سے توانائی کے روایتی ذرائع پر انحصار کے حوالے سے سنجیدہ سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ ان بدلتے ہوئے حالات میں ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی سطح پر قیمتوں کا تناؤ کم نہ ہوا تو ترقی پذیر ممالک کے لیے ایل این جی کی درآمدات کو جاری رکھنا ناممکن ہو جائے گا۔ اس مالیاتی بوجھ سے بچنے کے لیے بہت سے ایشیائی خریدار اب ہنگامی بنیادوں پر متبادل توانائی کے ذرائع تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ مستقبل میں اس قسم کے معاشی دھچکوں سے محفوظ رہا جا سکے۔