World
غزہ دستاویزی فلم نزا: اسرائیلی وزیر کی فلم سازوں کی شہریت ختم کرنے کی دھمکی
اسرائیلی وزراء نے وینز فلم فیسٹیول میں غزہ پر بنائی گئی متنازع دستاویزی فلم پر شدید غصے کا اظہار کیا ہے۔ اسرائیلی وزیر کی جانب سے فلم سازوں کی شہریت منسوخ کرنے کی دھمکی کے بعد عالمی سطح پر بحث چھڑ گئی ہے۔
اسرائیلی وزراء میں سے ایک نے حال ہی میں ریلیز ہونے والی متنازع دستاویزی فلم 'نزا' (NAZA) کے پروڈیوسرز اور ڈائریکٹرز کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان کی اسرائیلی شہریت منسوخ کرنے کی دھمکی دی ہے۔ یہ دستاویزی فلم حال ہی میں منعقد ہونے والے معروف بین الاقوامی وینز فلم فیسٹیول میں دکھائی گئی تھی جہاں اسے ناظرین کی جانب سے 25 منٹ تک کھڑے ہو کر داد دی گئی اور اس نے ایک نیا ریکارڈ قائم کیا۔ اس فلم کو فیسٹیول میں ایک خصوصی انعام سے بھی نوازا گیا جس نے عالمی سطح پر توجہ حاصل کی۔
فلم 'نزا' بنیادی طور پر غزہ کے اندر جاری جنگ اور وہاں کے عام شہریوں کی حالت زار کو موضوع بناتی ہے۔ اسے اسرائیلی ڈائریکٹرز نے ہی تیار کیا ہے جنہوں نے اس حساس موضوع پر کھل کر روشنی ڈالی ہے۔ تاہم، فلم کے منظر عام پر آنے کے بعد اسرائیلی سیاسی حلقوں میں شدید ہلچل مچ گئی ہے اور حکومت کی جانب سے اس پر سخت ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس فلم نے ریاستی بیانیے کو چیلنج کیا ہے، جس کی وجہ سے انتہا پسند عناصر کی طرف سے شدید دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔
فلم سازوں کے بارے میں تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وہ بخوبی جانتے تھے کہ اس نوعیت کا پروجیکٹ بنانے پر انہیں اپنے ہی ملک میں غدار قرار دیا جا سکتا ہے، لیکن اس کے باوجود انہوں نے سچائی کو سامنے لانے کا فیصلہ کیا۔ بین الاقوامی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسرائیلی وزیر کی جانب سے شہریت ختم کرنے کی دھمکی کو آزادی اظہار رائے پر براہ راست حملہ قرار دیا ہے۔ یہ معاملہ اب عالمی سطح پر بحث کا اہم موضوع بن چکا ہے اور اس سے فنون لطیفہ اور سیاسی آزادی کے درمیان تناؤ مزید بڑھ گیا ہے۔