LIVE
Loading Breaking News...

موبائل چوری پر 21 سالہ قید: والد کا انتظار ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا

News Image
برطانیہ میں ایک نوجوان کو محض موبائل فون چوری کرنے پر غیر معینہ مدت کے لیے جیل بھیج دیا گیا تھا، جس کے بعد اس کا خاندان گزشتہ اکیس سال سے اس کی رہائی کا شدت سے انتظار کر رہا ہے۔ لیراے ڈگلس نے جیل میں اتنا طویل عرصہ گزار لیا ہے کہ جتنا ویلز کے کسی بدنام زمانہ قاتل نے بھی نہیں کاٹا ہوگا۔
برطانیہ کے قانون انصاف کے نظام پر ایک بار پھر شدید سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں جہاں ایک شخص کو معمولی نوعیت کے جرم یعنی موبائل فون چوری کرنے پر غیر معینہ مدت کے لیے جیل میں ڈال دیا گیا۔ لیراے ڈگلس نامی اس قیدی کو جیل میں بند ہوئے اکیس سال کا طویل عرصہ گزر چکا ہے، اور اس کا خاندان مسلسل اس کی رہائی کے لیے قانونی جنگ لڑ رہا ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ لیراے نے جیل میں اتنا طویل وقت گزار لیا ہے جتنا کہ ویلز کے اکثر بدنام زمانہ قاتل بھی اپنی سزاؤں کے دوران نہیں کاٹتے۔ اس کیس نے برطانوی جیلوں میں نافذ العمل اس متنازع قانون کو بھی اجاگر کیا ہے جس کے تحت خطرناک سمجھے جانے والے یا بار بار جرم کرنے والے مجرموں کو غیر معینہ مدت کے لیے سزائیں دی جاتی ہیں، جن میں معمولی جرائم بھی شامل ہوجاتے ہیں۔ لیراے کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ اس کی سزا اس کے جرم سے کسی بھی طرح مطابقت نہیں رکھتی اور اسے اس جرم کی بہت بڑی قیمت چکانی پڑی ہے۔ اکیس سال کا طویل عرصہ کسی بھی انسان کی زندگی کا نصف حصہ ہوتا ہے، اور اتنے سالوں میں دنیا بہت تبدیل ہو چکی ہے لیکن لیراے کی دنیا چار دیواری تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ خاندان کے افراد کا کہنا ہے کہ وہ ہر گزرتے دن کے ساتھ اس امید پر زندہ ہیں کہ شاید اگلا دن ان کے بیٹے کے لیے آزادی کا سورج لے کر طلوع ہو۔ دوسری جانب قانونی ماہرین اور انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی اس قسم کے سزاؤں کے فیصلوں پر کڑی تنقید کر رہی ہیں، جن کے تحت معمولی نوعیت کے چوری کے مقدمات میں عمر قید جیسی سزائیں بھگتنی پڑتی ہیں۔ لیراے ڈگلس کا یہ معاملہ اب برطانیہ بھر میں انصاف کے نظام میں اصلاحات کی ضرورت کو اجاگر کرنے والی ایک بڑی علامت بن چکا ہے، اور تمام نظریں اب اگلی قانونی کارروائی پر مرکوز ہیں تاکہ معلوم ہو سکے کہ آیا اس خاندان کا اکیس سالہ انتظار کبھی ختم بھی ہو گا یا نہیں۔