LIVE
Loading Breaking News...

فیشن رہنما اور پیٹا کارکنان کے مابین جھگڑا

News Image
فیشن انڈسٹری کے ایک اہم رہنما اور جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم پیٹا کے کارکنان کے درمیان اچانک جھگڑا دیکھنے میں آیا ہے۔ اس غیر معمولی واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے جس پر مختلف حلقوں کی جانب سے تبصرے کیے جا رہے ہیں۔
فیشن انڈسٹری کے ایک معروف رہنما اور جانوروں کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والی عالمی تنظیم 'پیٹا' (PETA) کے کارکنان کے درمیان ایک حیرت انگیز اور ناخوشگوار واقعہ پیش آیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب پیٹا کے کارکنان فیشن انڈسٹری کی پالیسیوں اور جانوروں کی کھال کے استعمال کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرا رہے تھے۔ احتجاج کے دوران صورتحال اس قدر کشیدہ ہو گئی کہ فیشن انڈسٹری کے رہنما اور کارکنان آپس میں الجھ پڑے اور دونوں جانب سے ہاتھا پائی بھی دیکھی گئی۔ اس واقعے کی فوٹیج نے سوشل میڈیا پر آتے ہی دھوم مچا دی ہے اور دنیا بھر میں فیشن انڈسٹری اور جانوروں کے حقوق کے کارکنان کے درمیان جاری کشمکش کو ایک بار پھر گرما دیا ہے۔ پیٹا روایتی طور پر فیشن کے نام پر جانوروں کے شکار اور چمڑے کے استعمال کی شدید مخالفت کرتا رہا ہے اور اس طرح کے احتجاجی مظاہرے ان کی مہمات کا حصہ ہوتے ہیں۔ تاہم، اس بار احتجاج کے دوران ہونے والی اس جسمانی ہاتھا پائی نے مبصرین کو بھی حیرت میں ڈال دیا ہے کیونکہ صنعت کے قائدین کا اس طرح براہ راست کارکنان کے ساتھ الجھنا انتہائی نایاب سمجھا جاتا ہے۔ دوسری جانب فیشن انڈسٹری سے وابستہ حلقوں کا کہنا ہے کہ احتجاج کے نام پر دائرہ اختیار سے تجاوز کرنا اور شخصیات کی ذاتی زندگی یا کاروباری تقریبات میں خلل ڈالنا ناقابل قبول ہے۔ ان کا موقف ہے کہ اختلافِ رائے کا اظہار پرامن طریقے سے ہونا چاہیے نہ کہ زور زبردستی یا ہنگامہ آرائی کے ذریعے۔ ابھی تک اس واقعے کے بعد پولیس یا متعلقہ حکام کی جانب سے کسی باضابطہ قانونی کارروائی کا حتمی اعلان نہیں کیا گیا ہے، لیکن دونوں فریقین کی جانب سے بیانات کا سلسلہ جاری ہے۔ اس واقعے نے فیشن کی دنیا میں جانوروں کے حقوق کے احترام اور کاروباری آزادی کے دیرینہ تنازع کو ایک بار پھر مرکزِ نگاہ بنا دیا ہے۔