LIVE
Loading Breaking News...

بنگلہ دیش میں خسرہ کے باعث اموات اور ویکسینیشن کا بحران

News Image
بنگلہ دیش میں اپریل سے اب تک دو کروڑ ویکسین دی جانے کے باوجود خسرہ کی بیماری سے ایک ہزار افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ماضی میں حفاظتی ٹیکوں کے عمل میں کوتاہی اور انتظامات کی خامیوں کی وجہ سے یہ المیہ رونما ہوا۔
بنگلہ دیش کو حالیہ مہینوں میں ایک بڑے صحت کے بحران کا سامنا کرنا پڑا ہے جہاں بڑے پیمانے پر ویکسینیشن مہم چلائے جانے کے باوجود خسرہ کی بیماری سے ایک ہزار کے قریب قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔ ملک بھر میں صحت کے اداروں اور حکومتی کوششوں کے تحت رواں سال اپریل سے اب تک لگ بھگ دو کروڑ افراد کو حفاظتی ٹیکے لگائے جا چکے ہیں تاکہ اس وباء پر قابو پایا جا سکے، تاہم اس کے باوجود ہلاکتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد نے طبی ماہرین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماہرین اور صحت کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال کی بنیادی وجہ ماضی میں ویکسینیشن کے عمل میں ہونے والی وہ کوتاہیاں اور نقائص ہیں جنہیں بروقت حل نہیں کیا گیا۔ ماضی میں حفاظتی مہمات کے دوران کوریج میں کمی اور دور دراز علاقوں تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے بچوں کی ایک بڑی تعداد خسرہ کے خلاف قوت مدافعت حاصل کرنے سے محروم رہ گئی تھی، جو اب اس جان لیوا وباء کی شکل میں سامنے آ رہی ہے۔ حکام کا ماننا ہے کہ اگرچہ حالیہ مہم کے دوران انتہائی قلیل وقت میں کروڑوں خوراکیں دی گئی ہیں، لیکن جو بچے ماضی میں ویکسین سے محروم رہ گئے تھے وہ اس وائرس کا آسان ہدف بنے۔ اس صورتحال نے ملک کے طبی نظام کی کمزوریوں کو بھی بے نقاب کر دیا ہے اور اس بات کی اشد ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے کہ طویل المدتی حکمت عملی کے تحت حفاظتی ٹیکوں کے نظام کو مزید مضبوط بنایا جائے۔ حکومت اور بین الاقوامی امدادی ادارے اب اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ خسرہ کے پھیلاؤ کو مکمل طور پر روکنے کے لیے ضلعی سطح پر نگرانی کے نظام کو بہتر بنایا جائے اور کمیونٹی لیول پر آگاہی مہمات چلائی جائیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف بڑے پیمانے پر ٹیکے لگانا کافی نہیں ہے بلکہ اس بات کو یقینی بنانا بھی ضروری ہے کہ کوئی بھی بچہ حفاظتی ٹیکوں سے محروم نہ رہے تاکہ مستقبل میں ایسے اندمناک واقعات سے بچا جا سکے۔