LIVE
Loading Breaking News...

بلاول بھٹو کا بھارتی میڈیا کے پروپیگنڈے پر دوٹوک بیان

News Image
چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری نے ملائیشیا کے وزیراعظم کے انٹرویو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت نے جھوٹ کی بنیاد پر جنگ شروع کی اور اسے شرمناک شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ سیز فائر کے معاہدے کی پاسداری کرے اور خطے میں امن کے لیے مذاکرات کی راہ اپنائے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پیر کے روز بھارتی میڈیا کی جانب سے پاکستان کو دہشت گردی سے ملانے کی ناکام کوششوں پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پڑوسی ملک نے جھوٹ پر مبنی جنگ کا آغاز کیا تھا اور اسے اس میں بری طرح شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ بلاول بھٹو نے یہ بیانات سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم کے ایک بھارتی میڈیا چینل کو دیے گئے انٹرویو پر تبصرہ کرتے ہوئے جاری کیے۔ ملائیشیا کے وزیراعظم نے اپنے دورۂ بھارت کے دوران انڈین میڈیا کو دیئے گئے انٹرویو میں پاکستان پر ریاستی سطح پر دہشت گردی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی انٹیلی جنس ایجنسیز کے پاس ایسے شواہد موجود نہیں ہیں جن سے یہ ثابت ہو سکے کہ پاکستان کسی بھی قسم کی ریاستی دہشت گردی میں ملوث ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ وہ حقائق کی بنیاد پر بات کرتے ہیں اور کسی کے دباؤ میں آ کر بے بنیاد الزامات عائد نہیں کر سکتے۔ ملائیشیا کے وزیراعظم کے اس مؤقف کا خیرمقدم کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ انور ابراہیم نے بھارتی سرزمین پر بھارتی ٹی وی کے سامنے بھارتی پروپیگنڈے کو بے نقاب کر دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج پوری دنیا کے سامنے بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب ہو چکا ہے اور عالمی برادری کو یہ سمجھنا چاہیے کہ نئی دہلی کی طرف سے پاکستان کے خلاف پھیلائے جانے والے تمام الزامات بے بنیاد اور من گھڑت ہیں۔ چیئرمین پی پی پی نے زور دے کر کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ وہ جنگ بندی کے وقت کیے گئے وعدوں اور معاہدوں کا احترام کرے اور پاکستان کے ساتھ تمام تضوض اور تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی طرف قدم بڑھائے، تاکہ اس خطے کے کروڑوں عوام کے لیے امن، خوشحالی اور استحکام کی راہیں ہموار کی جا سکیں۔ واضح رہے کہ مئی 2025 میں مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں سیاحوں پر حملے کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان چار روزہ فوجی کشیدگی اور تنازع پیدا ہو گیا تھا، جس کا الزام نئی دہلی نے بغیر کسی ثبوت کے فوری طور پر پاکستان پر عائد کر دیا تھا۔ اسلام آباد نے اس الزام کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے غیر جانبدارانہ بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا تاہم بھارتی فضائیہ کی جانب سے پنجاب اور آزاد کشمیر میں حملوں کے جواب میں پاک فضائیہ نے دشمن کے کئی طیارے مار گرائے تھے۔ دونوں ممالک کے درمیان شدید کشیدگی کے بعد بالآخر 10 مئی کو امریکی مداخلت کے نتیجے میں فائر بندی پر اتفاق ہوا تھا۔ پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن کی بات کی ہے جبکہ بھارت اپنی اندرونی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے مسلسل پروپیگنڈے کا سہارا لے رہا ہے۔