LIVE
Loading Breaking News...

جیل مینوئل اور قیدیوں کے علاج سے متعلق وفاقی آئینی عدالت کی سماعت

News Image
وفاقی آئینی عدالت نے اڈیالہ جیل کے قیدیوں کی نجی اسپتالوں میں علاج کی درخواستوں پر سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ جیل مینوئل قیدیوں کی اسپتال منتقلی کے حوالے سے بالکل واضح ہے۔ عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ قانون کا اطلاق امتیازی سلوک کے بغیر ہونا چاہیے۔
اسلام آباد میں وفاقی آئینی عدالت (ایف سی سی) نے پیر کے روز اڈیالہ جیل کے قیدیوں کی جانب سے دائر کی جانے والی ان درخواستوں پر سماعت کی جن میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی طرز پر نجی اسپتالوں میں علاج کی سہولت فراہم کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔ عدالت نے اس موقع پر ریمارکس دیے کہ اگر جیل مینوئل کا اطلاق امتیاز برتتے ہوئے کیا جائے گا تو اس کی قانونی حیثیت پر سوالات اٹھیں گے، کیونکہ مینوئل قیدیوں کی اسپتال منتقلی کے معاملے میں پہلے ہی بالکل واضح ہے۔ سماعت کے دوران جسٹس علی باقر نجفی نے استفسار کیا کہ جب جیل مینوئل واضح ہے تو پھر اس میں کسی قسم کا امتیازی سلوک کیوں روا رکھا جا رہا ہے۔ اسی طرح جسٹس عامر فاروق نے بھی ریمارکس دیے کہ علاج کے لیے صرف نجی اسپتال ہی کیوں، جبکہ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) یا پولی کلینک اسپتال جیسے ادارے بھی موجود ہیں اور پاکستان پرزن رولز 1978 کا رول 197 اس معاملے میں صریح احکامات دیتا ہے۔ یاد رہے کہ یہ قوانین قیدیوں کی منتقلی کے طریقہ کار اور اس کے اخراجات سے متعلق واضح ہدایات فراہم کرتے ہیں۔ گزشتہ ماہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے ان قیدیوں کی درخواستیں مسترد کر دی تھیں جن میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ قیدیوں کو اپنی پسند کے نجی اسپتال میں علاج کا حق حاصل ہونا چاہیے، تاہم ہائی کورٹ کا کہنا تھا کہ قیدیوں کے علاج کی بنیادی ذمے داری سرکاری انتظامی ڈھانچے اور سرکاری اسپتالوں پر عائد ہوتی ہے۔ ہائی کورٹ کے اسی فیصلے کے خلاف قیدیوں نے وفاقی آئینی عدالت سے رجوع کیا تھا۔ پیر کو ہونے والی سماعت میں چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی، جس میں وکلاء نے اپنے موکلین کے طبی مسائل اور سرکاری اسپتالوں کے نظام پر عدم اعتماد کا اظہار کیا۔ وکلاء نے مؤقف اپنایا کہ سنگین بیماریوں کی صورت میں قیدیوں کو خاندان کے خرچ پر نجی اسپتال منتقل کرنے کی اجازت دی جانی چاہیے۔ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد کیس کی مزید کارروائی منگل کے روز تک ملتوی کرتے ہوئے قرار دیا کہ اس معاملے میں قانون کی تشریح درکار ہے۔