LIVE
Loading Breaking News...

فلپائن میں شجرکاری پروگرام کی ناکامی کی وجوہات

News Image
فلپائن کا پرجوش جنگلات کی بحالی کا پروگرام ملک کے جنگلات کو بچانے میں ناکام نظر آ رہا ہے۔ تحقیقاتی رپورٹ میں اس ناکامی کے پیچھے موجود وجوہات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔
فلپائن میں جنگلات کا مسلسل خاتمہ ایک سنگین ماحولیاتی بحران کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے، جہاں حکومت کی جانب سے شروع کیے گئے پرجوش شجرکاری پروگرام بھی خاطر خواہ نتائج دینے میں ناکام ثابت ہو رہے ہیں۔ ماہرین اور ماحولیاتی کارکنان اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کہ اربوں درخت لگانے کے دعوے کے باوجود ملک کا زمینی احاطہ سکڑتا جا رہا ہے۔ حالیہ تحقیقاتی رپورٹس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکومتی پالیسیوں میں موجود نقائص اور زمینی حقائق کو نظر انداز کیے جانے کی وجہ سے یہ منصوبے مطلوبہ اہداف حاصل نہیں کر पा رہے۔ اس صورتحال کے پس منظر میں اہم سوال یہ اٹھتا ہے کہ آخر فلپائن کا قومی ری گریننگ یا شجرکاری پروگرام اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود کیوں ناکام ہو رہا ہے؟ تحقیقاتی ذرائع کے مطابق، منصوبوں کی منصوبہ بندی میں مقامی کمیونٹیز کو اعتماد میں نہیں لیا جاتا اور نہ ہی درختوں کی دیکھ بھال کے لیے طویل مدتی فنڈز فراہم کیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ غیر قانونی جنگلات کی کٹائی، لکڑی مافیا کا راج اور تجارتی نوعیت کے منصوبے بھی اس ناکامی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، جس سے ماحول کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔ ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ محض کاغذی کارروائی یا بڑے پیمانے پر پودے لگانے کے اعلانات اس وقت تک موثر ثابت نہیں ہو سکتے جب تک سخت نگرانی کا نظام اور مقامی آبادی کی شمولیت کو یقینی نہ بنایا جائے۔ فلپائن کی حکومت کو اس بات کا ادراک کرنا ہوگا کہ جنگلات کا تحفظ صرف چند مہمات کا نام نہیں بلکہ یہ ایک مستقل اور منظم حکمت عملی کا متقاضی ہے۔ اگر فوری طور پر درست اقدامات نہ اٹھائے گئے تو فلپائن کے قیمتی جنگلات کا یہ ورثہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو سکتا ہے جس کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہوں گے۔