LIVE
Loading Breaking News...

کے پی کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی تقرری کیخلاف وفاقی آئینی عدالت میں کیس

News Image
وفاقی آئینی عدالت نے علی امین گنڈاپور کے استعفیٰ اور نئے وزیر اعلیٰ کی تقررتی کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کو اکتوبر کے دوسرے ہفتے کے لیے نوٹس جاری کر دیا ہے۔ عدالت نے آئینی تشریح کا معاملہ ہونے کی وجہ سے اٹارنی جنرل آف پاکستان کو بھی طلب کر لیا ہے۔
اسلام آباد میں وفاقی آئینی عدالت (FCC) نے پیر کے روز خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کو ان کی تقرری کے خلاف دائر کی جانے والی ایک آئینی درخواست پر اکتوبر کے دوسرے ہفتے کے لیے نوٹس جاری کر دیا ہے۔ چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے تحریک انصاف کے ناراض رہنما شیر افضل خان مروت کی جانب سے دائر کردہ اس پٹیشن کی سماعت کی۔ یہ درخواست سابق وزیر اعلیٰ کے پی علی امین گنڈاپور کے استعفیٰ کے تنازعے پر دائر کی گئی ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ تبدیلی کا پورا عمل غیر آئینی اور غیر قانونی ہدایات کے تحت سر انجام پایا۔ سماعت کے دوران عدالت نے ضابطہ دیوانہ کی دفعہ 27-اے کے تحت اٹارنی جنرل آف پاکستان منصور عثمان اعوان کو بھی طلب کر لیا ہے کیونکہ یہ معاملہ آئین کی تشریح سے متعلق ہے۔ شیر افضل مروت نے خود عدالت میں دلائل دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ آئین کے آرٹیکل 175-ای کے تحت دائر کی گئی اس پٹیشن کا مقصد اس حقیقت کو بے نقاب کرنا ہے کہ علی امین گنڈاپور کے استعفیٰ نامے غیر آئینی دباؤ کے تحت لیے گئے تھے۔ پٹیشن میں مزید مؤقف اپنایا گیا ہے کہ جیل میں قید پی ٹی آئی کے بانی، جو کہ آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کے تحت نااہل قرار دیے جا چکے ہیں، ان کی ہدایات پر یہ تمام سیاسی تبدیلیاں لائی گئیں۔ درخواست گزار کے مطابق ایک نااہل شخص کو سرکاری امور یا صوبائی حکومت کے ڈھانچے پر اثر انداز ہونے کا کوئی قانونی اختیار حاصل نہیں ہے۔ عدالت سے استدع کی گئی ہے کہ وہ وزیر اعلیٰ کے طور پر سہیل آفریدی کی تقرری کا 15 اکتوبر 2025 کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دے اور علی امین گنڈاپور کو دوبارہ ان کے منصب پر بحال کرے۔ عدالت اس کیس میں آئین کے بنیادی حقوق اور صوبائی خود مختاری کے اہم نکتوں پر مزید سماعت کرے گی۔