Pakistan
پاکستان اور سعودی عرب تعلقات، حوثی تنازع اور سفارتی کوششیں
پاکستان نے حوثی تنازع سے متعلقہ حالیہ سفارتی امور کے تناظر میں سعودی عرب کے ساتھ تعلقات میں بہتری اور کشیدگی کم کرنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ وزیراعظم نے سعودی ولی عہد سے ٹیلیفونک گفتگو میں علاقائی امن کے لیے اپنا مصالحانہ کردار جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
اسلام آباد: پاکستان نے حوثی تنازع پر اپنے حالیہ سفارتی مؤقف اور اس کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے پیش نظر سعودی عرب کے ساتھ تعلقات میں بہتری اور کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں باضابطہ طور پر تیز کر دی ہیں۔ حالیہ دنوں میں خطے کے اندر حوثی تحریک کی طرف سے سعودی عرب پر حملوں اور خلیجی ممالک کی خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں سفارتی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔ سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان نے اس نازک موڑ پر توازن قائم رکھنے اور سعودی عرب کے ساتھ دیرینہ برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے لیے اعلیٰ سطح پر رابطے شروع کر دیے ہیں۔ وزیراعظم پاکستان نے اس ضمن میں سعودی ولی عہد سے ٹیلیفونک رابطہ کیا جس میں دوطرفہ تعلقات سمیت خطے میں امن و امان کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس گفتگو کے دوران وزیراعظم نے واضح کیا کہ پاکستان خلیجی خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکنے اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے اپنا مثبت اور مصالحانہ کردار ہر ممکن حد تک جاری رکھے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات تاریخی اور تزویراتی اہمیت کے حامل ہیں، جنہیں کسی بھی قسم کے غلط فہمیوں یا علاقائی تنازعات کی نذر نہیں ہونے دیا جائے گا۔ دوسری جانب، خطے میں جاری کشیدگی اور خلیجی ریاستوں کے مابین بعض اہم سفارتی اجلاسوں کے التوا میں جانے کے بعد پاکستان کی یہ سفارتی کوششیں انتہائی اہمیت کی حامل سمجھی جا رہی ہیں۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ پاکستان کی سول اور عسکری قیادت خطے کے استحکام کے لیے خلیجی ممالک بالخصوص سعودی عرب کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے تاکہ کسی بھی قسم کے غلط تاثر کو زائل کیا جا سکے۔ توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ ان سفارتی رابطوں کے نتیجے میں خطے میں پائی جانے والی کشیدگی میں کمی واقع ہوگی اور باہمی تعاون کا فریم ورک مزید مستحکم ہوگا۔