LIVE
Loading Breaking News...

اسلام آباد ہائی کورٹ کا سڑکیں بند کرنے کے خلاف اہم فیصلہ

News Image
اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا ہے کہ کسی بھی سیاسی جماعت کو وفاقی دارالحکومت میں سڑکیں بند کرنے کا کوئی قانونی حق حاصل نہیں۔ عدالت نے صوبائی وزراء اعلیٰ کو بھی ہدایت کی ہے کہ وہ پی ٹی آئی کے احتجاجی مارچ کے لیے سرکاری وسائل کے استعمال کو روکیں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ کسی بھی سیاسی جماعت یا گروہ کو یہ قانونی حق حاصل نہیں ہے کہ وہ وفاقی دارالحکومت میں احتجاج یا دھرنے کے نام پر عام راستے اور سڑکیں بند کرے۔ عدالت کا یہ سخت موقف پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے آئندہ احتجاجی مارچ کے تناظر میں سامنے آیا ہے، جس کے پیش نظر شہر میں سیکیورٹی کے انتظامات کو مزید سخت کر دیا گیا ہے۔ عدالت عالیہ نے تمام متعلقہ حکام کو واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ شہریوں کی نقل و حرکت کو یقینی بنایا جائے اور کسی بھی صورت ٹریفک معطل نہ ہونے دی جائے۔ اس کے علاوہ عدالت نے صوبائی وزراء اعلیٰ کو بھی سختی سے ہدایت کی ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ عمران خان کی رہائی کے لیے منعقد ہونے والے اس مارچ یا کسی بھی سیاسی سرگرمی کے لیے ریاست کے وسائل اور سرکاری مشینری کا استعمال ہرگز نہ کیا جائے۔ عدالت کا ماننا ہے کہ سرکاری خزانے اور وسائل کو کسی خاص سیاسی مقصد یا دھرنے کے لیے استعمال کرنا قانون کی خلاف ورزی ہے، لہذا انتظامیہ کو اس حوالے سے غیر جانبدار اور پختہ کردار ادا کرنا چاہئے۔ دوسری جانب، اسلام آباد اور پنجاب میں اس احتجاجی کال کے پیش نظر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کارروائیاں شروع کر دی ہیں اور بعض مقامات پر پی ٹی آئی کے کارکنان کے خلاف کریک ڈاؤن کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ حکومت اور انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ شہر میں امن و امان کی فضا برقرار رکھنا اور شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ کرنا ان کی اولین ذمہ داری ہے، جس کے تحت کسی بھی قانون شکنی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ سیاسی مبصرین کے مطابق عدالت کا یہ فیصلہ آنے والے دنوں میں سیاسی کشیدگی کو کم کرنے یا انتظامی اور عدالتی محاذ پر مزید بحث چھیڑنے کا باعث بن سکتا ہے۔