LIVE
Loading Breaking News...

ٹرمپ کا یوکرین کو روسی ریفائنریز پر حملے روکنے کا مشورہ

News Image
امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین پر زور دیا ہے کہ وہ روس کے ڈیزل اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے بند کر دے۔ انہوں نے اس فیصلے کی وجہ عالمی سطح پر ایندھن کی ممکنہ قلت کو قرار دیا ہے۔
امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ روس کے ڈیزل اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے بالخصوص ریفائنریز پر حملے فوری طور پر روک دیں۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ موقف سامنے آیا ہے کہ اس وقت دنیا بھر میں ایندھن کی ممکنہ قلت کا خدشہ موجود ہے، جس کے پیش نظر یوکرین کی جانب سے روسی توانائی کے شعبے پر حملے عالمی معیشت اور تیل کی سپلائی کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے یہ وارننگ اور اپیل ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں کشیدگی بدستور جاری ہے اور دونوں فریقین ایک دوسرے کے اہم تنصیبات کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یوکرین کی جانب سے روسی آئل ریفائنریز پر ہونے والے حملوں نے روس کی اندرونی ایندھن کی مارکیٹ کو متاثر کیا ہے، تاہم اس کے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ٹرمپ کا مؤقف ہے کہ اس طرح کے حملے عالمی توانائی کے بحران کو مزید سنگین بنا سکتے ہیں، جس سے دنیا بھر کے صارفین متاثر ہوں گے۔ دوسری جانب، اس حوالے سے یوکرین کی قیادت اور یورپی اتحادیوں کا ردعمل بھی زیر غور ہے۔ یوکرین اپنی دفاعی حکمت عملی کے تحت روسی جنگی مشینری اور معیشت کو کمزور کرنے کے لیے ایسے حملے کرتا رہا ہے تاکہ ماسکو پر دباؤ بڑھایا جا سکے۔ تاہم، عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی مہنگائی اور ایندھن کے بحران کے خدشات نے بین الاقوامی برادری کو پریشان کر رکھا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اس بیان نے عالمی سیاست اور یوکرین جنگ کے تناظر میں ایک نئی بحث چھڑ دی ہے۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا یوکرین امریکی رہنما کی اس اپیل پر غور کرتا ہے یا نہیں اور آنے والے دنوں میں جنگ کے اس محاذ پر کیا تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔