Business
کینیڈا میں اگست کے دوران مہنگائی کی شرح تین فیصد پر برقرار
اگست کے دوران کینیڈا میں مہنگائی کی شرح تین فیصد پر برقرار رہی جس کی بڑی وجوہات میں کرایوں اور سفری اخراجات میں اضافہ شامل ہے۔ اس صورتحال کے بعد کینیڈین ڈالر دباؤ کا شکار ہے اور مرکزی بینک کے آئندہ اقدامات پر ماہرین کی نظریں لگی ہوئی ہیں۔
کینیڈا میں اگست کے مہینے کے دوران مہنگائی کی شرح تین فیصد پر برقرار رہی ہے، جس نے معاشی حلقوں میں نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ شماریات کینیڈا کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، ملک میں صارفین کی قیمتوں کے اشاریہ (سی پی آئی) میں اس استحکام کی بنیادی وجوہات میں رہائشی مکانات کے کرایوں میں مسلسل اضافہ اور سفری اخراجات کا بڑھنا شامل ہے۔ ان عوامل نے مجموعی معیشت پر اپنے اثرات مرتب کیے ہیں اور عام شہریوں کے لیے روزمرہ اخراجات کو مزید بوجھل بنا دیا ہے۔
اس معاشی صورتحال کے براہ راست اثرات کینیڈین کرنسی پر بھی مرتب ہوئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق کینیڈین ڈالر مارکیٹ میں دباؤ کا شکار ہے کیونکہ حالیہ مہنگائی کے اعداد و شمار ملے جلے رجحان کو ظاہر کرتے ہیں۔ غیر ملکی مبادلہ کی مارکیٹس میں سرمایہ کار اس بات کا اندازہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کینیڈا کا مرکزی بینک اپنے آئندہ مالیاتی فیصلوں میں کیا حکمت عملی اختیار کرے گا۔ تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے نے بھی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جس سے مرکزی بینک کے لیے شرح سود کے حوالے سے فیصلے کرنا چیلنجنگ بن گیا ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ مرکزی بینک فی الحال انتظار کرو اور دیکھو کی پالیسی پر عمل پیرا ہو سکتا ہے تاکہ تیل کی قیمتوں اور عالمی منڈی کے رجحانات کا مزید گہرائی سے جائزہ لیا جا سکے۔ مہنگائی کی یہ شرح اگرچہ پچھلے مہینوں کے مقابلے میں قابو میں نظر آتی ہے، تاہم بنیادی اشیائے ضروریہ اور کرایوں میں مسلسل تیزی اس بات کی غماز ہے کہ عام آدمی کو فوری طور پر مہنگائی سے مکمل ریلیف ملنے کی توقع کم ہے۔ آنے والے ہفتوں میں کینیڈا کے مرکزی بینک کی جانب سے آنے والے بیانات معاشی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔