LIVE
Loading Breaking News...

اسرائیلی وزیر کی وینس ایوارڈ یافتہ غزہ فلم نازا کے ہدایتکاروں کو دھمکی

News Image
وینس فلم فیسٹیول میں غزہ سے متعلق متنازعہ دستاویزی فلم 'نازا' کے ایوارڈ جیتنے پر ایک اسرائیلی وزیر نے اس کے ہدایتکاروں کی شہریت ختم کرنے کی دھمکی دی ہے۔ اس دستاویزی فلم اور اس کے مبینہ لیک شدہ مواد پر اسرائیل میں سیاسی اور فوجی حلقوں کی طرف سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔
وینس فلم فیسٹیول میں غزہ کے تنازع پر بنائی جانے والی ایک دستاویزی فلم 'نازا' کو خصوصی انعام ملنے کے بعد اسرائیل میں ایک نیا سیاسی اور قانونی بحران پیدا ہو گیا ہے۔ اس فلم کے ہدایتکاروں کے خلاف سخت کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے ایک اسرائیلی وزیر نے دھمکی دی ہے کہ ان کی شہریت ختم کی جا سکتی ہے۔ یہ فلم غزہ کے حالات اور وہاں جاری تنازع کو عکاس کرتی ہے، جس نے بین الاقوامی سطح پر توجہ حاصل کی ہے، لیکن اسرائیلی حکام کے نزدیک یہ ملک کے مؤقف کے منافی ہے۔ فلم کی کامیابی کے بعد اسرائیلی حکومت اور سفارتی حلقوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے اور حکام اس کے خلاف دنیا بھر میں سفارتی سطح پر جوابی حکمت عملی تیار کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق، اسرائیلی دفاعی فورسز (آئی ڈی ایف) کے سربراہ نے بھی اس فلم اور اس کے مبینہ طور پر لیک ہونے والے مواد کے حوالے سے ممکنہ قانونی کارروائی اور باضابطہ تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ حکومتی حلقوں کا ماننا ہے کہ اس قسم کے پروجیکٹس بین الاقوامی فورمز پر اسرائیل کی شبیہ کو نقصان پہنچا رہے ہیں، جس کا سختی سے مقابلہ کیا جانا چاہیے۔ دوسری جانب، فلم سازوں اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے اس دھمکی کو اظہارِ رائے کی آزادی پر براہ راست حملہ قرار دیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ فنکاروں کو ان کے کام کی بنیاد پر نشانہ بنانا اور ان کی شہریت سلب کرنے کی باتیں کرنا جمہوری اقدار کے منافی ہے۔ اس سارے تنازع نے دنیا بھر کے میڈیا میں ایک بار پھر غزہ کے تنازع اور اس پر بننے والے ثقافتی و تخلیقی کاموں کے اردگرد موجود کشیدگی کو اجاگر کر دیا ہے۔