LIVE
Loading Breaking News...

برطانوی سیاست اور فاریج کے عطیات کا تنازعہ

News Image
برطانوی سیاست میں غیر ملکی اور تارکین وطن کے عطیات پر بحث کے دوران اہم بیان سامنے آیا ہے۔ حکومت نے برطانوی تارکین وطن کے عطیات پر سالانہ ایک لاکھ پاؤنڈ کی حد مقرر کرنے کی تجویز دی ہے۔
برطانوی سیاسی حلقوں میں عطیات کے حوالے سے بحث اس وقت شدت اختیار کر گئی ہے جب حکومت کی جانب سے تارکین وطن کے فنڈز پر نئی پابندیاں عائد کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ برطانوی وزراء کی جانب سے یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ برطانوی تارکین وطن کی طرف سے ملنے والے عطیات پر سالانہ ایک لاکھ پاؤنڈ کی سخت حد مقرر کی جائے، جسے مارچ 2026 سے لاگو کرنے کی تجاویز زیر غور ہیں۔ اس صورتحال میں اہم سیاسی شخصیت نائجل فاریج کا مؤقف بھی سامنے آیا ہے جنہوں نے واضح کیا ہے کہ موصول ہونے والے 72 ملین پاؤنڈ کے عطیات موجودہ قوانین کے بالکل مطابق ہیں۔ حکومتی ذرائع کے مطابق اس نئی قانون سازی کا بنیادی مقصد سیاسی فنڈنگ کے نظام میں شفافیت کو مزید بہتر بنانا اور غیر ملکی یا تارکین وطن کے اثر و رسوخ کو ایک مقررہ حد کے اندر رکھنا ہے۔ اس پیشرفت سے سیاسی جماعتوں بالخصوص ان جماعتوں پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں جو اپنے تنظیمی امور اور انتخابی مہم کے لیے تارکین وطن کے عطیات پر زیادہ انحصار کرتی ہیں۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ اگر یہ حد لاگو ہوتی ہے تو فنڈ اکٹھا کرنے کے روایتی طریقوں میں نمایاں تبدیلی لانا ہوگی۔ دوسری جانب، نائجل فاریج اور ان کے حامیوں کا اصرار ہے کہ اب تک جتنی بھی رقوم یا عطیات جمع کیے گئے ہیں، وہ قانون کے دائرہ کار میں رہ کر قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے حاصل کیے گئے ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ ماضی کے عطیات پر کسی بھی قسم کی قدغن لگانا یا نئے قواعد کا نفاذ سیاسی نوعیت کا اقدام ہو سکتا ہے۔ اس تنازعے نے برطانوی پارلیمنٹ میں سیاسی بحث کو مزید گرما دیا ہے اور آئندہ دنوں میں اس قانون سازی کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان مزید گرما گرم مباحثے متوقع ہیں۔