LIVE
Loading Breaking News...

برطانوی ایتھلیٹ کو ہلاک کرنے والے ڈرائیور کی ملک بدری کی اپیل مسترد

News Image
برطانوی ٹیم کے نامور ٹرائیتھلیٹ کی جان لینے والے رومانی ڈرائیور وسیل باربو کی اپیل عدالت نے خارج کر دی ہے۔ اس فیصلے کے بعد مجرم کو اس کے آبائی ملک واپس بھیٹنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
برطانوی ٹیم کے معروف ٹرائیتھلیٹ کو سڑک پر اپنی گاڑی سے کچل کر ہلاک کرنے والے رومانی ڈرائیور وسیل باربو کی ملک بدری کے فیصلے کے خلاف دائر کردہ اپیل کو عدالت کی جانب سے باضابطہ طور پر خارج کر دیا گیا ہے۔ اس اہم قانونی فیصلے کے بعد اب مجرم ڈرائیور کی اس کے آبائی ملک رومانیہ ملک بدری کے تمام تر قانونی راستے صاف ہو چکے ہیں اور متعلقہ حکام نے اس پر عملدرآمد کی تیاری شروع کر دی ہے۔ یاد رہے کہ اس خوفناک ٹریفک حادثے نے برطانوی کھیلوں کی دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا اور ہر حلقے کی طرف سے اس پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا گیا تھا۔ عدالتی کارروائی کے دوران جج نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد وسیل باربو کی جانب سے ملک بدری کے حکم کو روکنے کی درخواست کو مسترد کرنے کا فیصلہ سنایا۔ عدالتی حکام کا کہنا ہے کہ سنگین جرائم میں ملوث غیر ملکی شہریوں کے حوالے سے قوانین بالکل واضح ہیں اور اس نوعیت کے افسوسناک واقعات میں کوئی نرمی نہیں برتی جا سکتی۔ مقتول ایتھلیٹ کے لواحقین اور سپورٹس کمیونٹی نے عدالتی فیصلے پر اطمینان کا اظہار کیا ہے اور اسے انصاف کی فراہمی کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق اس فیصلے سے یہ بات ایک بار پھر واضح ہو گئی ہے کہ برطانوی قانون انصاف کے تقاضے پورے کرنے میں کسی قسم کی تاخیر یا لچک کا مظاہرہ نہیں کرتا، بالخصوص جب بات کسی انسانی جان کے ضیاع کی ہو۔ مجرم وسیل باربو کو اب برطانوی سرزمین سے واپس رومانیہ بھیج دیا جائے گا جہاں وہ قانون کے مطابق اپنی باقی ماندہ پابندیوں کا سامنا کرے گا۔ اس مقدمے کے انجام کو برطانوی ذرائع ابلاغ میں بھی خاصی اہمیت دی جا رہی ہے اور اسے ایک کڑا پیغام قرار دیا گیا ہے۔