LIVE
Loading Breaking News...

یمن کشیدگی: خلیجی ممالک کے ایران کے ساتھ آبنائے ہرمز مذاکرات ملتوی

News Image
یمن کے تنازع میں شدید تیزی اور حوثی حملوں کے جاری رہنے کے بعد خلیجی ممالک نے ایران کے ساتھ آبنائے ہرمز کے مذاکرات موخر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس پیش رفت کے نتیجے میں خطے میں کشیدگی بڑھ گئی ہے اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔
یمن کے تنازع میں اچانک شدت اور سعودی عرب پر حوثی حملوں کے تسلسل کے پیش نظر خلیجی ممالک نے ایران کے ساتھ آبنائے ہرمز کے حوالے سے ہونے والے اہم مذاکرات کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کرنے کا اعلان کیا ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق یہ مذاکرات عمان کی ثالثی میں خطے میں امن اور بحری گزرگاہوں کو محفوظ بنانے کے لیے طے کیے گئے تھے، تاہم حالیہ عسکری پیش رفت اور کشیدگی نے فریقین کو اس اہم بیٹھک کو موخر کرنے پر مجبور کر دیا۔ اس فیصلے سے خطے میں جاری سفارتی کوششوں کو دھچکا لگا ہے اور مشرق وسطیٰ میں سیکیورٹی کے حوالے سے خدشات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ دوسری جانب تہران کا مؤقف ہے کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بحال کرنے اور اس کے کھلنے کا انحصار امریکی وعدوں اور خطے میں بیرونی مداخلت کے خاتمے پر ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ جب تک بنیادی مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے، اس اہم سمندری گزرگاہ کے معاملات پر پیش رفت مشکل ہو گی۔ مبصرین کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز پر مذاکرات کے التواء سے عالمی توانائی کی رسد کو بھی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، کیونکہ دنیا کا ایک بڑا تیل کا ذخیرہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔ مذاکرات کے ملتوی ہونے کی خبر سامنے آتے ہی عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس سے دنیا بھر کی معیشتوں پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ عالمی برادری اور اقوام متحدہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کر رہے ہیں اور فریقین پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ بات چیت کے دروازے کھلے رکھیں تاکہ کسی بھی بڑی جنگی صورتحال سے بچا جا سکے۔ آنے والے دنوں میں سفارتی سطح پر نئے رابطے متوقع ہیں تاکہ اس تعطل کو ختم کیا جا سکے، تاہم فی الحال خطے میں امن کی بحالی کا عمل سست پڑ گیا ہے۔