World
سعودی عرب کے یمن میں فضائی حملے، حوثی گروپ کے حملوں کا جواب
یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی فوجی اڈوں پر حملوں کے دعوے کے بعد صورتحال کشیدہ ہوگئی ہے۔ اس کشیدگی کے نتیجے میں سعودی عرب نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے یمن پر چونتیس فضائی حملے کیے ہیں۔
یمن میں جاری تنازعہ ایک بار پھر شدت اختیار کر گیا ہے جہاں حوثی باغیوں کے حالیہ حملوں کے بعد سعودی اتحاد نے سخت جوابی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق حوثی گروپ نے سعودی عرب کے بعض اہم فضائی اڈوں کو براہ راست نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا، جس کے فوراً بعد کشیدگی میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھا گیا۔ اس صورتحال کے تناظر میں سعودی عرب نے یمن کے مختلف علاقوں پر چونتیس فضائی حملے کیے ہیں تاکہ حوثی عسکریت پسندوں کی صلاحیتوں کو کمزور کیا جا سکے اور سکیورٹی خدشات پر قابو پایا جا سکے۔
خطے میں بڑھتی ہوئی اس کشیدگی نے بین الاقوامی برادری بالخصوص علاقائی امن کے لیے کوششیں کرنے والے ممالک کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان اور دیگرمفاہمت پسند ممالک خطے میں تناؤ کو کم کرنے کے لیے سفارتی سطح پر اپنے رابطے بحال رکھے ہوئے ہیں تاکہ اس بگڑتی ہوئی صورتحال کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے۔ اس کے علاوہ آبنائے ہرمز سے متعلق مجوزہ اجلاس میں تاخیر نے سفارتی کوششوں کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے جس سے امن کی راہ میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔
سعودی عرب میں سکیورٹی کے پیش نظر ہائی الرٹ جاری کیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ ناخوشگوار واقعے سے نمٹا جا سکے۔ دوسری جانب تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر فریقین نے تحمل کا مظاہرہ نہ کیا تو مشرق وسطیٰ کا یہ دیرینہ تنازعہ ایک بار پھر ایک بڑی جنگ کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ عالمی طاقتیں اور علاقائی رہنما اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ فوری طور پر جنگ بندی کی جائے اور مسائل کے حل کے لیے بات چیت کا راستہ اپنایا جائے تاکہ عام شہریوں کے جانی و مالی نقصان کو روکا جا سکے۔