Business
پاکستان میں تعمیراتی حادثات روکنے کے لیے انجینئر آف ریکارڈ کا نفاذ
پاکستان میں پمز اسپتال جیسے حادثات کے بعد تعمیراتی شعبے میں حفاظتی قوانین کو مزید سخت کرنے کی آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک کو تعمیراتی سانحات سے بچانے کے لیے قانونی طور پر 'انجینئر آف ریکارڈ' کا تصور اپنانا ہوگا۔
اسلام آباد کے پمز اسپتال اور اس طرح کے دیگر مقامات پر پیش آنے والے حادثات نے پاکستان کے تعمیراتی اور حفاظتی ڈھانچے پر کئی سوالیہ نشان چھوڑ دیے ہیں۔ ماہرین اور صنعت سے وابستہ افراد کا ماننا ہے کہ ملک میں تعمیراتی منصوبوں کی نگرانی کے لیے ایک ایسے باضابطہ اور قانونی نظام کی اشد ضرورت ہے جو ہر پروجیکٹ کے دوران حفاظتی اصولوں کی سختی سے پابندی کو یقینی بنائے۔ اس تناظر میں 'انجینئر آف ریکارڈ' کا تصور تیزی سے اہمیت اختیار کرتا جا رہا ہے، جو کہ دنیا کے کئی ترقی یافتہ ممالک میں کامیابی کے ساتھ نافذ ہے۔ اس نظام کے تحت ایک مخصوص انجینئر کو تمام تعمیراتی کاموں، ڈیزائن اور حفاظتی اقدامات کی قانونی ذمہ داری سونپی جاتی ہے۔
پاکستان میں روایتی طور پر تعمیراتی منصوبوں کے دوران حفاظتی معیارات کی سنگین خلاف ورزیاں دیکھنے میں آتی ہیں، جن کی وجہ سے نہ صرف قیمتی مالی نقصان ہوتا ہے بلکہ انسانی جانیں بھی داؤ پر لگ جاتی ہیں۔ جب تک کسی ایک فرد یا ادارے کو قانونی طور پر پراجیکٹ کے معیار اور حفاظت کے لیے جوابدہ نہیں ٹھہرایا جائے گا، اس وقت تک غفلت کے اس کلچر کا خاتمہ ناممکن ہے۔ 'انجینئر آف ریکارڈ' کا قانونی درجہ ملنے سے یہ فائدہ ہوگا کہ کوئی بھی بلڈر یا ٹھیکیدار بنیادی حفاظتی ضوابط کو نظر انداز نہیں کر سکے گا کیونکہ اس عمل کی منظوری اور نگرانی ایک مجاز پیشہ ور کے دستخط اور ذمہ داری کے تحت ہوگی۔
حالیہ مباحثوں میں اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ حکومت کو فوری طور پر تعمیراتی قوانین میں اصلاحات متعارف کروانی چاہئیں اور تمام بڑے سرکاری و نجی منصوبوں کے لیے 'انجینئر آف ریکارڈ' کی تقرری کو لازمی قرار دینا چاہیے۔ اس ضمن میں متعلقہ ریگولیٹری اداروں اور انجینئرنگ کونسلز کو بھی اپنا فعال کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ قوانین صرف کاغذی کارروائی تک محدود نہ رہیں بلکہ زمینی سطح پر ان کا نفاذ یقینی بنایا جا سکے۔ ملک میں پائیدار ترقی اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے اس طرح کے جدید حفاظتی اور قانونی نظام کا نفاذ اب وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکا ہے۔