LIVE
Loading Breaking News...

کے پی کے وزیر اعلیٰ کا لاہور میں اغوا کا دعویٰ اور پنجاب حکومت کا ردعمل

News Image
خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں لاہور میں حکام کی جانب سے اغوا کیا گیا اور سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا۔ دوسری جانب، پنجاب کے صوبائی وزیر نے ان الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا ہے۔
خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ نے ایک اہم بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ انہیں حال ہی میں لاہور کے دورے کے دوران حکام کی جانب سے مبینہ طور پر اغوا کیا گیا۔ ان کے مطابق یہ کارروائی سیاسی انتقام کا حصہ تھی اور انہیں ایک کارکن کی رہائش گاہ پر تشدد اور ہراساں کرنے کا نشانہ بھی بنایا گیا۔ اس واقعے کے بعد ملک کی سیاسی فضا میں ایک بار پھر گرما گرمی دیکھنے میں آئی ہے اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے بیانات کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ دوسری جانب، پنجاب حکومت کے ایک سینئر وزیر نے ان تمام الزامات کو سختی سے رد کرتے ہوئے بے بنیاد اور من گھڑت قرار دیا ہے۔ صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ اس قسم کے الزامات کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ محض سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کی ایک کوشش ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قانون سب کے لیے برابر ہے اور کسی کے ساتھ بھی غیر قانونی سلوک نہیں کیا گیا، جبکہ اس طرح کے بیانات کا مقصد صوبائی ہم آہنگی کو خراب کرنا ہے۔ یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے ستمبر کے آخر میں ایک طویل مارچ کی تیاریاں کی جا رہی ہیں، اور سیاسی و انتظامی سطح پر کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، موجودہ سیاسی صورتحال ملک میں ایک نئے بحران کو جنم دے سکتی ہے جہاں دونوں صوبائی حکومتیں ایک دوسرے پر سنگین نوعیت کے الزامات عائد کر رہی ہیں۔ عوام اور مبصرین اس معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کہ آنے والے دنوں میں سیاسی تناؤ میں کمی آتی ہے یا اس میں مزید تیزی آتی ہے۔