World
اسکاٹ لینڈ، ویلز اور شمالی آئرلینڈ کا حق خودارادیت کے لیے تاریخی اتحاد
برطانیہ کے ان تین حصوں کے سیاسی رہنماؤں نے تاریخی اتحاد قائم کرتے ہوئے خودارادیت کا حق مانگ لیا ہے۔ ان رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ویسٹ منسٹر کا وقت اب اختتام پذیر ہو رہا ہے۔
برطانیہ کے سیاسی منظر نامے میں ایک بڑی ہلچل اس وقت دیکھنے میں آئی جب اسکاٹ لینڈ، ویلز اور شمالی آئرلینڈ کے اہم سیاسی رہنماؤں نے خودارادیت اور آزادی کے حق میں ایک تاریخی اتحاد کا اعلان کر دیا۔ اس پیش رفت کو بین الاقوامی میڈیا میں انتہائی اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے جہاں مختلف نشریاتی اداروں نے اسے ایک نئے 'سیٹک سمٹ' کا نام دیا ہے۔ ان علاقائی رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ اب ان کے عوام کو یہ حق ملنا چاہیے کہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کریں اور یونائیٹڈ کنگڈم میں رہنے یا نہ رہنے کا آزادانہ انتخاب کریں۔
رپورٹس کے مطابق اسکاٹش، ویلش اور شمالی آئرش پارٹی رہنماؤں نے مشترکہ طور پر اس بات پر زور دیا ہے کہ لندن میں قائم مرکزی حکومت یعنی ویسٹ منسٹر کا اقتدار اب اپنی آخری منزل کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مرکزی حکومت کی پالیسیاں ان تینوں خطوں کے عوام کی امنگوں اور مفادات کے مطابق نہیں ہیں، اس لیے اب وقت آ گیا ہے کہ اختیارات کو مقامی سطح پر منتقل کیا جائے اور آزادی کی باقاعدہ منصوبہ بندی پر کام شروع کیا جائے۔
اس مشترکہ سیاسی کوشش کے بعد برطانیہ کے آئین اور مستقبل کے بارے میں سنگین سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر ان خطوں کے رہنماؤں نے یونائیٹڈ کنگڈم کو تحلیل کرنے یا اس سے متعلقہ ریفرنڈم کی تیاریوں کو عملی جامہ پہنایا تو برطانوی حکومت کے لیے سیاسی اور آئینی بحران مزید گہرا ہو سکتا ہے۔ فی الحال ان رہنماؤں نے باضابطہ طور پر اتحاد کا آغاز کر دیا ہے اور آنے والے دنوں میں اس حوالے سے مزید لائحہ عمل کا اعلان متوقع ہے۔