AI
ایپل کے سابق محققین کا نیا اے آئی وائس بوٹ پروجیکٹ
ایپل کے سابق محققین ایک ایسے نئے منصوبے پر کام کر رہے ہیں جس کا مقصد مصنوعی ذہانت پر مبنی وائس بوٹس کو عام انسانوں کی طرح بات چیت کرنے کے قابل بنانا ہے۔ اس ٹیکنالوجی سے صارفین کو محسوس ہوگا کہ وہ کسی مشین سے نہیں بلکہ حقیقی انسان سے گفتگو کر رہے ہیں۔
ٹیکنالوجی کی دنیا میں مصنوعی ذہانت (AI) کی ترقی دن بدن نئے سنگ میل عبور کر رہی ہے۔ اسی سلسلے میں ایپل کمپنی کے کچھ سابق محققین نے ایک انتہائی دلچسپ اور اہم قدم اٹھایا ہے، جس کا مقصد اے آئی وائس بوٹس کو زیادہ سے زیادہ انسان نما بنانا ہے۔ آج کے دور میں جب ہم کسی بھی ڈیجیٹل اسسٹنٹ یا وائس بوٹ سے بات کرتے ہیں، تو اس کے لہجے اور ردعمل سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ہم کسی کمپیوٹر یا مشین سے مخاطب ہیں۔ لیکن یہ سابق محققین اس روایتی انداز کو مکمل طور پر بدلنے کا عزم رکھتے ہیں۔
اس نئے منصوبے کے تحت وائس بوٹس میں جذبات، مکالمے کے دوران قدرتی وقفے، اور انسانوں کی طرح لہجے میں اتار چڑھاؤ پیدا کرنے کی صلاحیتیں شامل کی جا رہی ہیں۔ عام طور پر اے آئی وائس بوٹس کو جب کوئی سوال پوچھا جاتا ہے تو وہ فوراََ ایک روبوٹک انداز میں جواب دیتے ہیں، جس میں انسانی گرمجوشی اور جذبات کی شدید کمی ہوتی ہے۔ نئی تحقیق کے ذریعے اس خامی کو دور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ صارفین کو یہ احساس ہو سکے کہ وہ کسی روبوٹ سے نہیں بلکہ ایک حقیقی انسان سے بات چیت کر رہے ہیں۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ اس نوعیت کی ٹیکنالوجی کا مستقبل میں کسٹمر سروس، تعلیم اور تفریح کے شعبوں پر بہت گہرا اثر پڑے گا۔ جب وائس بوٹس لوگوں کے ساتھ ان کے جذبات کو سمجھتے ہوئے گفتگو کریں گے تو صارفین کا اعتماد ان سسٹمز پر مزید پختہ ہو گا۔ ایپل کے سابق محققین کی یہ کوشش یقیناً مصنوعی ذہانت کے میدان میں ایک انقلاب ثابت ہوگی، جو انسانی اور مشینی رابطے کے درمیان موجود خلیج کو کم کرنے میں مدد دے گی۔