World
فلوریڈا حراستی مرکز میں تارکین وطن پر مظالم، تحقیقاتی رپورٹ سامنے آگئی
محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے انسپکٹرز نے فلوریڈا کے حراستی مرکز میں تارکین وطن کو کھلے آسمان تلے چھوٹے پنجروں میں رکھے جانے کا انکشاف کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ مرکز صفائی، طبی امداد، خوراک اور تحفظ کے بنیادی معیار پر پورا اترنے میں ناکام رہا ہے۔
امریکہ کے محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی (ڈی ایچ ایس) کے انسپکٹرز نے فلوریڈا میں واقع تارکین وطن کے ایک متنازعہ حراستی مرکز کے دورے کے بعد تشویشناک انکشافات کیے ہیں۔ تحقیقاتی ٹیم نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ اس حراستی مرکز میں تارکین وطن کو کھلے آسمان تلے انتہائی چھوٹے پنجروں میں قید رکھا جا رہا ہے، جس سے انسانی حقوق کی شدید پامالی کی عکاسی ہوتی ہے۔ اس مرکز کو مقامی سطح پر 'الیگیٹر الکاٹراز' بھی کہا جاتا ہے، جہاں رہنے کے حالات انتہائی غیر انسانی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یہ حراستی مرکز صفائی، طبی امداد، خوراک اور مجموعی حفاظت کے بنیادی بین الاقوامی اور ملکی معیارات کی دھجیاں اڑا رہا ہے۔ انسپکٹرز نے پایا کہ قیدیوں کو نہ صرف مناسب خوراک فراہم کی جا رہی ہے اور نہ ہی صاف پانی تک ان کی رسائی ہے، بلکہ طبی ہنگامی صورتحال میں بروقت علاج معالجے کا بھی کوئی معقول انتظام موجود نہیں ہے۔ اس صورتحال نے انسانی حقوق کی تنظیموں کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے جو طویل عرصے سے تارکین وطن کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر سوالات اٹھاتی رہی ہیں۔
امریکہ بھر میں تارکین وطن کے حراستی مراکز میں سہولیات کا فقدان ایک طویل عرصے سے بحث کا موضوع رہا ہے، تاہم تازہ ترین انکشافات نے اس مسئلے کو ایک بار پھر قومی سطح پر اجاگر کر دیا ہے۔ سیاسی اور سماجی حلقوں کی جانب سے اس معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات اور ذمہ داران کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ ڈی ایچ ایس کی جانب سے جاری کردہ اس رپورٹ کے بعد اب انتظامیہ پر شدید دباؤ بڑھ گیا ہے کہ وہ ان مراکز میں فوری طور پر اصلاحات نافذ کرے تاکہ بنیادی انسانی حقوق کی پاسداری کو یقینی بنایا جا سکے اور تارکین وطن کو پرانی اور غیر انسانی حالت سے نجات دلائی جا سکے۔