Technology
والو کا نیا اسٹیم فریم وی آر ہیڈسیٹ اور اس کی قیمت کا جائزہ
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق والو کا نیا ورچوئل رিয়لٹی ہیڈسیٹ اپنی کارکردگی میں انتہائی شاندار ہے۔ تاہم ایک ہزار برطانوی پاؤنڈ سے زائد کی بھاری قیمت صارفین کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے۔
ورچوئل رئیلٹی یعنی وی آر کی دنیا میں ٹیکنالوجی کے بڑے نام والو نے ایک بار پھر دھوم مچا دی ہے، اور اس کا نیا ہیڈسیٹ اپنی شاندار کارکردگی کی وجہ سے خبروں کی زینت بنا ہوا ہے۔ بی بی سی کے ٹیکنالوجی رپورٹر ٹام گرکن نے اس نئے ڈیوائس کا قریب سے جائزہ لیا ہے اور اسے تکنیکی اعتبار سے ایک بہترین اور جدید ترین ایجاد قرار دیا ہے۔ اس ڈیوائس میں گرافکس، بیٹری لائف اور استعمال کے تجربے کو انتہائی شاندار طریقے سے بہتر بنایا گیا ہے تاکہ صارفین کو ایک حقیقی ورچوئل دنیا کا احساس ہو۔
تاہم، اس تمام جدید ٹیکنالوجی اور اعلیٰ کارکردگی کے ساتھ ایک بہت بڑا مسئلہ بھی جڑا ہوا ہے، جو کہ اس کی قیمت ہے۔ اس نئے وی آر ہیڈسیٹ کی قیمت ایک ہزار برطانوی پاؤنڈ سے بھی تجاوز کر گئی ہے، جس نے ایک بار پھر ٹیک کی دنیا میں اس بحث کو جنم دیا ہے کہ کیا ورچوئل رئیلٹی اب بھی عام صارفین کے لیے بہت زیادہ مہنگی ہے۔ اتنی زیادہ قیمت ہونے کی وجہ سے یہ ڈیوائس عام گیمرز اور ٹیکنالوجی کے شوقین افراد کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور اسے خریدنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں رہی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس ہیڈسیٹ کے فیچرز اور اس کا ہارڈ ویئر اپنی قیمت کا کچھ حصہ تو درست ثابت کرتے ہیں، لیکن عام مارکیٹ میں مقبولیت حاصل کرنے کے لیے قیمت کا کم ہونا ناگزیر ہے۔ جب تک وی آر سسٹمز عام آدمی کے بجٹ میں فٹ نہیں بیٹھتے، تب تک یہ ٹیکنالوجی ایک مخصوص اور محدود طبقے تک ہی محدود رہے گی۔ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ والو یا دیگر کمپنیاں مستقبل میں ایسی سستی متبادل ڈیوائسز متعارف کراتی ہیں یا نہیں جو عام صارفین کی جیب پر بھاری نہ پڑیں۔