LIVE
Loading Breaking News...

جبوتی میں یمنی پناہ گزینوں کی آمد سے انسانی بحران میں اضافہ

News Image
یمنی بحران کے باعث پناہ گزینوں کی جبوتی آمد میں اضافے سے وہاں کے انسانی حالات ابتر ہو چکے ہیں۔ امدادی تنظیموں نے عالمی برادری سے اس سنگین صورتحال پر فوری توجہ دینے کی اپیل کی ہے۔
افریقہ کے چھوٹے سے ملک جبوتی میں انسانی صورتحال انتہائی تشویشناک رخ اختیار کرتی جا رہی ہے کیونکہ ہمسایہ ملک یمن سے جان بچا کر آنے والے پناہ گزینوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ یمن میں طویل عرصے سے جاری کشیدگی اور تنازعات کے باعث ہزاروں افراد نقل مکانی پر مجبور ہیں اور انہوں نے قریبی بحری پٹی عبور کر کے جبوتی کا رخ کیا ہے۔ اس اچانک اور بڑے پیمانے پر ہجرت نے جبوتی کے پہلے سے محدود وسائل پر شدید دباؤ ڈالا ہے جس سے وہاں انسانی بحران مزید گہرا ہو گیا ہے۔ مقامی ذرائع اور بین الاقوامی فلاحی تنظیموں کے مطابق، جبوتی میں پناہ گزینوں کے لیے قائم کردہ کیمپوں میں بنیادی سہولیات کی شدید کمی واقع ہو رہی ہے۔ پناہ گزینوں کو صاف پانی، خوراک اور طبی امداد کی فراہمی میں حکام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ بچوں اور خواتین کی بڑی تعداد طبی مسائل کا شکار ہے جبکہ اسپتالوں اور صحت کے مراکز پر مریضوں کا بوجھ حد سے زیادہ بڑھ چکا ہے۔ امدادی کارکنوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر بین الاقوامی برادری نے فوری طور پر مالی اور امدادی پیکیج فراہم نہ کیا تو حالات مزید قابو سے باہر ہو سکتے ہیں۔ اقوام متحدہ اور دیگر انسانی حقوق کی تنظیمیں اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور دنیا بھر کے عطیہ دہندگان سے فنڈز جاری کرنے کی اپیل کی جا رہی ہے۔ جبوتی کی حکومت نے اپنی بساط کے مطابق پناہ گزینوں کو خوش آمدید کہا ہے لیکن ایک ترقی پذیر ملک کے لیے اتنی بڑی آبادی کی مستقل کفایت شعاری کرنا ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بحران کا پائیدار حل صرف یمن میں مستقل امن اور سیاسی استحکام کے قیام میں ہی مضمر ہے۔ اس سنگین انسانی بحران کے تناظر میں، دنیا کے ترقی یافتہ ممالک پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ جبوتی جیسے میزبان ممالک کی مالی مدد کریں تاکہ پناہ گزینوں کو باعزت زندگی اور بنیادی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ جبوتی کے ساحلوں پر روزانہ کی بنیاد پر نئی کشتیاں لنگر انداز ہو رہی ہیں اور ہر آنے والے دن کے ساتھ امدادی کاموں میں مزید چیلنجز پیدا ہوتے جا رہے ہیں۔