World
غزہ میں تعلیمی بحران، پرائیویٹ اسکول والدین کی پہنچ سے دور
غزہ کے والدین کو اپنے بچوں کی تعلیم کے لیے انتہائی کٹھن فیصلوں کا سامنا ہے کیونکہ وہ وسائل کی کمی اور مہنگائی کی وجہ سے پرائیویٹ اسکولوں کے اخراجات اٹھانے سے قاصر ہیں۔ خیموں میں قائم محدود وسائل کے حامل اسکولوں اور مہنگے پرائیویٹ اداروں کے درمیان انتخاب کرنا اب جنگ زدہ علاقوں کے خاندانوں کے لیے روز کا مسئلہ بن گیا ہے۔
غزہ میں جاری طویل کشیدگی اور ابتر حالات نے عام زندگی کے ہر شعبے کو شدید متاثر کیا ہے، جہاں بالخصوص تعلیمی میدان میں والدین کو انتہائی کٹھن فیصلوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ معاشی بدحالی اور تباہ حال بنیادی ڈھانچے کی وجہ سے غزہ کے خاندانوں کے لیے اپنے بچوں کی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھنا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ ایک طرف پرائیویٹ اسکول ہیں جن کی فیسیں اور اخراجات آسمان سے باتیں کر رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف وسائل سے عاری خیموں پر مشتمل اسکول ہیں جو بنیادی تعلیمی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہیں۔
بیشتر والدین کے لیے پرائیویٹ اسکول اب ایک ناممکن اور انتہائی مہنگا انتخاب بن چکے ہیں کیونکہ روزگار کے ذرائع ختم ہو چکے ہیں اور لوگوں کی قوت خرید نہ ہونے کے برابر ہے۔ ایسے میں خاندان مجبور ہیں کہ وہ اپنے بچوں کو ایسے خیمہ اسکولوں میں بھیجیں جہاں نہ تو پختہ عمارتیں ہیں اور نہ ہی درس و تدریس کا مناسب سامان یا کتابیں دستیاب ہیں۔ اس کے باوجود، تعلیم سے لگاؤ اور روشن مستقبل کی امید والدین کو ان بچوں کو ان ابتدائی مراکز میں بھیجنے پر مجبور کرتی ہے تاکہ وہ ناخواندگی کے اندھیروں سے بچ सकें۔
تعلیمی ماہرین اور فلاحی تنظیموں نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر غزہ کے تعلیمی نظام کو فوری طور پر بحال اور امداد فراہم نہ کی گئی، تو بچوں کی ایک پوری نسل تعلیم سے محروم رہ جائے گی۔ پرائیویٹ اسکولوں کے اخراجات عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہونے کی وجہ سے تعلیمی عدم مساوات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ عالمی برادری کو غزہ کے تعلیمی بحران پر فوری توجہ دینی چاہیے تاکہ بچوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔