World
مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی پالیسیاں اور فلسطینیوں کی مشکلات
انسانی حقوق کی تنظیم بتلیم نے اپنی نئی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ مغربی کنارے میں بستیوں کی توسیع اور جبری نقل مکانی الگ تھلگ واقعات نہیں بلکہ ایک منظم نظام کا حصہ ہیں۔ اس دہائیوں پر محیط پالیسی کا مقصد فلسطینیوں کی زندگی کو ناممکن بنانا ہے۔
انسانی حقوق کی معروف اسرائیلی تنظیم 'بتلیم' نے اپنی ایک تازہ ترین اور جامع رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی زندگی کو منظم طریقے سے مفلوج کیا جا رہا ہے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ وہاں جاری بستیوں کی توسیع، فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی اور روزمرہ زندگی پر عائد کی جانے والی کڑی پابندیاں کوئی الگ تھلگ یا وقتی اقدامات نہیں ہیں، بلکہ یہ ایک دہائیوں پر محیط سوچی سمجھی اور مربوط حکمت عملی کا حصہ ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اس مربوط نظام کا بنیادی مقصد مقبوضہ علاقوں میں فلسطینی آبادی پر دباؤ بڑھانا ہے تاکہ وہ اپنی زمینیں چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں۔ اسرائیلی حکام کی جانب سے تعمیراتی اجازت ناموں کا حصول ناممکن بنانا، زرعی زمینوں پر قبضے اور نقل و حرکت پر سخت ترین چیک پوسٹیں اس منظم پالیسی کے نمایاں مظاہر ہیں۔ اس صورتحال نے عام فلسطینی شہریوں کی معاشی اور سماجی زندگی کو انتہائی ابتر بنا دیا ہے اور وہ اپنے ہی وطن میں اجنبی بنتے جا رہے ہیں۔
بین الاقوامی برادری اور انسانی حقوق کے اداروں نے اس رپورٹ پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور ان اقدامات کو بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ دنیا کو ان زمینی حقائق کا ادراک کرنا ہوگا جو روز بروز مغربی کنارے کے مستقبل کو تاریک کر رہے ہیں۔ اگر فوری طور پر ان جبری اقدامات اور پالیسیوں کو نہ روکا گیا تو خطے میں پائیدار امن کا حصول ہمیشہ کے لیے ناممکن ہو جائے گا۔