LIVE
Loading Breaking News...

کیا بائیں بازو کی سیاست اور صیہونیت ساتھ چل سکتے ہیں؟

News Image
سیاسی نظریات کے تجزیے کے مطابق بائیں بازو کی سیاست اور صیہونی نظریات میں بنیادی تضاد پایا جاتا ہے۔ اس تضاد کے باوجود صیہونیت کے نسل پرستانہ اور استعماری کردار پر پردہ ڈالنے کے لیے اسے بائیں بازو کے ساتھ جوڑنے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔
سیاسی اور فکری حلقوں میں یہ سوال شدت سے پوچھا جاتا ہے کہ کیا کوئی سیاسی جماعت یا نظریہ بیک وقت بائیں بازو کی تحریک اور صیہونیت کا حامی ہو سکتا ہے؟ بائیں بازو کی بنیادی روایات ہمیشہ سے سامراجیت، استعمار، اور نسلی یا قومیتی امتیاز کی مخالفت پر مبنی رہی ہیں۔ دوسری طرف، صیہونیت ایک ایسی سیاسی تحریک ہے جس پر تاریخ اور موجودہ حالات میں استعماری ہتھکنڈوں اور امتیازی سلوک کے الزامات عائد کیے جاتے ہیں۔ اس تناظر میں سیاسی تجزیہ کاروں کا یہ ماننا ہے کہ نظریاتی طور پر ان دونوں کا ملاپ قطعی طور پر ناممکن ہے۔ اس کے باوجود، عالمی سطح پر بعض حلقوں کی طرف سے بائیں بازو کی اصطلاحات کا استعمال کرتے ہوئے صیہونیت کو جواز فراہم کرنے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کی فکری تبیین کا مقصد دراصل صیہونی نظریات کے نسل پرستانہ اور استعماری نقوش کو چھپانا اور انہیں دنیا کے سامنے قابل قبول بنانا ہے۔ تاریخ کے مطالعے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ بائیں بازو کی سیاست کا اصل ہدف مظلوم طبقات اور قوموں کے حقوق کی جنگ لڑنا ہے، جبکہ صیہونیت کے عملی نفاذ نے خطے میں جنم لینے والے تنازعات کو مزید ہوا دی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان دونوں نظریات کا اشتراک نہ صرف فکری خیانت کے زمرے میں آتا ہے بلکہ یہ بائیں بازو کے بنیادی اصولوں کی بھی نفی کرتا ہے۔