LIVE
Loading Breaking News...

اسرائیلی قبضے میں فلسطینی بچوں کی اسکول تک رسائی کی جنگ

News Image
مقبوضہ رام اللہ کے قریب واقع گاؤں المغیر میں بچوں کو تعلیم حاصل کرنے کے لیے روزانہ اسرائیلی فوجیوں کے سخت پہرے اور رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اسکول کا یہ سفر فلسطینی بچوں کے لیے ایک کٹھن اور خطرناک مرحلہ بن چکا ہے۔
مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر رام اللہ کے شمال مشرق میں واقع ایک چھوٹے سے گاؤں المغیر کے بچوں کے لیے صبح سویرے اسکول جانا کسی بڑے امتحان سے کم نہیں۔ ہر روز صبح جب یہ معصوم طلباء اپنے بستہ اٹھائے علم کی شمع روشن کرنے کے لیے گھروں سے نکلتے ہیں، تو انہیں راستے میں اسرائیلی فوجیوں کے کڑے پہرے اور خار دار تاروں سے گزرنا پڑتا ہے۔ تعلیمی اداروں تک رسائی کا یہ سفر انتہائی طویل، کٹھن اور خوف زدہ ماحول میں طے ہوتا ہے۔ اسرائیلی فوجی چوکیوں اور سکیورٹی اہلکاروں کی موجودگی کی وجہ سے بچوں اور والدین کو شدید ذہنی کوفت اور خوف کا سامنا رہتا ہے۔ زمینی حقائق کے مطابق، روزمرہ کی زندگی پر قابض افواج کی سخت پابندیوں نے تعلیمی عمل کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے۔ والدین اس بات پر ہر وقت پریشان رہتے ہیں کہ آیا ان کے بچے بحفاظت اسکول پہنچ پائیں گے یا نہیں۔ اسکول کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کا مقصد فلسطینی معاشرے میں خوف و ہراس پھیلانا اور نئی نسل کو بنیادی حقوق سے محروم کرنا ہے۔ ان تمام تر مشکلات اور جبر کے باوجود المغیر گاؤں کے بچوں اور اساتذہ کے حوصلے پست نہیں ہوئے۔ وہ ان تمام رکاوٹوں کو عبور کر کے کلاس رومز تک پہنچتے ہیں اور حالات کی سختی کے باوجود اپنی تعلیم کو جاری رکھنے کے لیے پُرعزم ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ تعلیم حاصل کرنا بھی ان کے لیے قابض فورسز کے خلاف ایک پرامن مزاحمت کی شکل اختیار کر چکا ہے، جہاں علم کی روشنی اندھیروں کو شکست دینے کے لیے مسلسل جل رہی ہے۔