Business
سౌدی پائپ لائن پر حملہ: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں
سౌدی عرب کی اہم پائپ لائن پر ڈرون حملے کے بعد تیل کی برآمدات کو شدید خطرات لاحق ہوگئے ہیں، جس کے نتیجے میں بین الاقوامی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ پائپ لائن کو پہنچنے والے نقصان کی مرمت میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں جس سے توانائی کی سپلائی متاثر ہوگی۔
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اس وقت نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا جب سعودی عرب کی اہم ترین ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کو حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ اس پائپ لائن کی بندش اور برآمدی راستوں کو لاحق خطرات کی وجہ سے توانائی کے عالمی بحران کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس صورتحال سے مشرق وسطیٰ میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو رہا ہے جس کا براہ راست اثر عالمی معیشت پر پڑ رہا ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق سعودی عرب نے احتیاطی تدابیر کے طور پر اس تنقیدی پائپ لائن کو عارضی طور پر بند کر دیا ہے جو ہرمز کی آبنائے کو بائی پاس کرتے ہوئے تیل کی ترسیل کا ایک متبادل اور محفوظ راستہ فراہم کرتی تھی۔ ڈرون حملوں کی وجہ سے پائپ لائن کو پہنچنے والے نقصانات اتنے شدید ہیں کہ حکام کا کہنا ہے کہ اس کی مرمت اور بحالی کا کام کئی ہفتوں تک جاری رہ سکتا ہے۔ اس تعطل کی وجہ سے عالمی منڈی میں تیل کی یومیہ فراہمی میں خاطر خواہ کمی واقع ہوئی ہے اور طلب و رسد کا توازن بگڑ گیا ہے۔
امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کی جانب سے اس واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے جبکہ تجارتی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر برآمدی راستے جلد بحال نہ ہوئے تو تیل کی قیمتوں میں مزید تیزی آسکتی ہے۔ سعودی حکام صورتحال پر قابو پانے اور تیل کی سپلائی کے متبادل انتظامات کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم موجودہ تنازعے کے تناظر میں سرمایہ کاروں میں بے یقینی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ توانائی کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر علاقائی کشیدگی میں کمی نہ آئی تو عالمی سطح پر مہنگائی کا نیا طوفان آسکتا ہے۔