Business
تیل کے ٹینکرز کی یومیہ کمائی 10 لاکھ ڈالر، جنگی صورتحال کا اثر
عالمی سطح پر جاری جنگی صورتحال کی وجہ سے بحری جہازوں کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے جس کے نتیجے میں تیل کے ٹینکرز کی یومیہ کمائی 10 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ اس بحران کی وجہ سے ایشیائی ریفائنریز کو تیل کی محدود رسد کا سامنا ہے اور توانائی کی منڈیوں میں شدید ہلچل مچ گئی ہے۔
عالمی سطح پر جاری تنازعات اور جنگی کشیدگی نے دنیا بھر میں توانائی کے شعبے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق بحری جہازوں کی شدید قلت کے باعث تیل کے ٹینکرز کی یومیہ آمدنی 10 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق، یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب خطے میں جاری کشیدگی اور یمن میں حملوں کی وجہ سے سمندری راستوں پر آمدورفت متاثر ہوئی اور سپلائی چین کو شدید دھچکا لگا۔ اس بحران کا اثر صرف بڑے بحری جہازوں تک محدود نہیں ہے بلکہ خام تیل لے جانے والے تمام چھوٹے اور بڑے ٹینکرز کے اسپاٹ ریٹس بیک وقت آسمان کو چھونے لگے ہیں۔ ایشیائی ریفائنریز جو پہلے ہی سعودی عرب سے آنے والی کھیپ کے انتظار میں تھیں، اب مزید سخت سپلائی اور تیل کی قلت کی توقع کر رہی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یمن میں ایران کے حلیفوں کی کارروائیوں نے جنگ کے اثرات کو مزید گہرا کر دیا ہے، جس کے باعث تیل کی قیمتوں میں بھی اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔ توانائی کے شعبے کے ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر عالمی سطح پر تنازعات میں کمی نہ آئی اور بحری نقل و حرکت کو معمول پر نہ لایا گیا، تو تیل کی ترسیل کے اخراجات مزید بڑھ سکتے ہیں جس کا براہ راست اثر عام صارفین اور عالمی معیشت پر پڑے گا۔ تمام تر صورتحال میں تجارتی جہاز رانی کی کمپنیوں کے لیے تو یہ منافع بخش دور ثابت ہو رہا ہے، لیکن درآمد کنندگان اور ریفائنریز کو شدید چیلنجز کا سامنا ہے۔