Technology
امریکی آبی تنصیبات پر سائبر حملہ، ایران پر شبہ
امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ مینیسٹا کے واٹر سسٹمز پر ہونے والے سائبر حملے کے پیچھے ایران کا ہاتھ ہے۔ اس واقعہ کے بعد وفاقی حکام نے مقامی آبی تنصیبات کو بڑھتے ہوئے سائبر خطرات سے خبردار کر دیا ہے۔
امریکی جاسوسی اداروں اور انٹیلی جنس حکام نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ حال ہی میں ریاست مینیسٹا کے آبی ذخائر اور واٹر سسٹمز پر ہونے والے سائبر حملے کے پیچھے ایران کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔ امریکی اخبار واشنگتن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق، انٹیلی جنس ذرائع اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا یہ حملہ کسی بیرونی ریاست کی حمایت یافتہ ہیکنگ گروپ کی کارروائی تھی۔ اس سنگین پیش رفت کے بعد وفاقی اداروں نے ملک بھر کے مقامی واٹر سسٹمز اور اہم انفراسٹرکچر کے منتظمین کے لیے ایک نئی انتباہی وارننگ جاری کر دی ہے تاکہ ممکنہ خطرات سے بروقت نمٹا جا سکے۔ دوسری جانب نیویارک ٹائمز کی رپورٹس میں بھی اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ امریکی حکام اس سائبر حملے کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہے ہیں اور اس کے تانے بانے بین الاقوامی عناصر سے ملا کر دیکھے جا رہے ہیں۔ حالیہ برسوں کے دوران امریکہ کے اہم انفراسٹرکچر بالخصوص واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس اور بجلی کے نظام پر سائبر حملوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کی وجہ سے سائبر سکیورٹی کے ماہرین مسلسل پریشانی کا شکار ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے حملے بنیادی ڈھانچے کو مفلوج کرنے یا عوامی خدمات میں خلل ڈالنے کے لیے کیے جاتے ہیں، جو قومی سلامتی کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتے جا رہے ہیں۔ وفاقی اداروں کی جانب سے جاری کردہ اس تازہ انتباہ میں تمام مقامی واٹر سسٹمز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے ڈیجیٹل سکیورٹی پروٹوکولز کا فوری طور پر جائزہ لیں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی صورت میں فوری طور پر متعلقہ حکام کو مطلع کریں تاکہ اہم تنصیبات کو کسی بھی بڑے نقصان سے محفوظ رکھا جا سکے۔