LIVE
Loading Breaking News...

برطانوی تاج کی علامت اور غلاموں کی تاریخ، نئی تحقیق

News Image
نئی تاریخی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ سولہویں سے انیسویں صدی کے دوران برطانوی غلام تجارت میں افریقیوں پر برطانوی تاج کا نشان لگایا جاتا تھا۔ یہ ہولناک حقائق برطانوی شمولیت کو دستاویزی شکل دینے والے ایک تحقیقی منصوبے کے دوران سامنے آئے ہیں۔
تاریخی تحقیق کے دوران ایک انتہائی ہولناک انکشاف سامنے آیا ہے جس کے مطابق سولہویں سے انیسویں صدی کے درمیان غلام بنائے جانے والے افریقی مرد و خواتین پر برطانوی تاج کی علامت داغی جاتی تھی۔ یہ چونکا دینے والے حقائق ایک ایسے وسیع تر تحقیقی منصوبے کا حصہ ہیں جو برطانوی تاریخ میں غلاموں کی تجارت کے سیاہ باب اور اس میں برطانوی کردار کو دستاویزی شکل دینے کے لیے شروع کیا گیا تھا۔ ماہرین اور محققین اس بات کی گہرائی سے جانچ پڑتال کر رہے ہیں کہ کس طرح برطانوی سلطنت کے اداروں اور اشرافیہ نے اس انسانیت سوز تجارت سے براہ راست فائدہ اٹھایا۔ یہ تحقیق اس دور کی ان گنت دستاویزات کا احاطہ کرتی ہے جو طویل عرصے سے آرکائیوز میں چھپی ہوئی تھیں۔ محققین کا کہنا ہے کہ یہ نشانیاں نہ صرف مالکانہ حقوق کے طور پر استعمال ہوتی تھیں بلکہ یہ اس دور کے جبر اور استحصالی نظام کی بدترین مثال بھی تھیں۔ برطانوی ملوث ہونے کی یہ دستاویزات ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ کس طرح جبر کے اس نظام کو قانونی اور ادارہ جاتی پشت پناہی حاصل تھی۔ اس منصوبے کا مقصد برطانوی تاریخ کے اس تاریک دور کو سامنے لانا ہے تاکہ نئی نسلیں اس حقیقت سے آگاہ ہو سکیں کہ موجودہ عالمی ڈھانچے کی بنیادوں میں ماضی کے کتنے بڑے انسانی المیے اور ظلم پوشیدہ ہیں۔ اس پراجیکٹ کے تحت سامنے آنے والے شواہد سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ غلاموں کی تجارت صرف چند نجی تاجروں تک محدود نہیں تھی بلکہ اس میں برطانوی ریاست اور شاہی علامتوں کا باقاعدہ استعمال کیا جاتا تھا۔ برطانوی تاج کا نشان اس بات کی علامت تھا کہ ان انسانی جانوں کو کس بے دردی سے املاک کی طرح استعمال کیا گیا۔ مورخین امید ظاہر کر رہے ہیں کہ ان دستاویزات کے سامنے آنے کے بعد تاریخی حقائق کو مزید شفافیت کے ساتھ سمجھا جا سکے گا اور اس انسانی المیے کے ہر پہلو پر کھل کر بحث ہو سکے گی۔