World
غزہ میں خیمہ بستی پر اسرائیلی حملہ اور جانی نقصان
اسرائیلی فورسز نے غزہ میں بے گھر افراد کے ایک عارضی کیمپ کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں کئی فلسطینی جاں بحق اور زخمی ہو گئے۔ اس حملے نے خطے میں جاری انسانی بحران کو مزید سنگین کر دیا ہے۔
غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج کی جانب سے ایک بار پھر بے گھر افراد کے عارضی خیموں کو نشانہ بنایا گیا ہے، جس کے نتیجے میں متعدد فلسطینی شہید اور شدید زخمی ہو گئے ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق یہ حملہ ایسے وقت میں کیا گیا جب ہزاروں بے گھر افراد پہلے ہی انتہائی کسمپرسی کی حالت میں زندگی گزار رہے ہیں اور ان کے پاس پناہ کے لیے کوئی دوسری محفوظ جگہ موجود نہیں ہے۔ اسرائیلی بمباری کے باعث کیمپ میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا اور امدادی ٹیموں کو جائے وقوعہ پر پہنچنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس حملے نے علاقے میں جاری انسانی بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے کیونکہ خیمہ بستیوں میں طبی سہولیات کا شدید فقدان ہے اور زخمیوں کو بروقت طبی امداد کی فراہمی میں رکاوٹیں حائل ہیں۔ بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے غزہ میں شہریوں اور پناہ گزین کیمپوں پر ہونے والے ان حملوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری جنگ بندی اور متاثرہ علاقوں تک بلا تعطل انسانی امداد کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ معصوم شہریوں کو جنگ کا نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے اور عالمی برادری کو اس انسانی المیے کو روکنے کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا۔ غزہ کے طول و عرض میں مسلسل بمباری کے باعث نہ صرف بنیادی ڈھانچہ مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے بلکہ خوراک، پانی اور ادویات کی شدید قلت بھی پیدا ہو چکی ہے، جس سے لاکھوں افراد کی زندگیاں خطرے میں پڑ گئی ہیں۔