LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ میں پاور پلانٹس کے اخراج کے قوانین منسوخ

News Image
امریکی انتظامیہ نے پاور پلانٹس کے لیے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو محدود کرنے والے قوانین کو منسوخ کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد امریکی توانائی کے شعبے کو فروغ دینا اور پاور پلانٹس کے لیے تین سو ارب ڈالر سے زائد کی بچت کرنا ہے۔
امریکی حکومت نے بجلی پیدا کرنے والے کارخانوں یعنی پاور پلانٹس پر عائد ان سخت قوانین کو باضابطہ طور پر ختم کر دیا ہے جو گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو محدود کرتے تھے۔ اس پالیسی تبدیلی کا بنیادی مقصد ملک میں توانائی کی پیداوار کو مزید وسعت دینا اور روایتی ایندھن پر مبنی صنعتوں کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔ امریکی حکام کا ماننا ہے کہ اس فیصلے سے ملک کے پاور پلانٹس کو تین سو ارب ڈالر سے زیادہ کی مالی بچت ہوگی۔ انتظامیہ کے مطابق، اس اقدام سے امریکی توانائی کی صنعت کو نئی زندگی ملے گی اور معیشت کو زبردست فروغ حاصل ہوگا۔ ناقدین نے اگرچہ اس فیصلے پر ماحولیاتی خدشات کا اظہار کیا ہے، تاہم حکومت کا اصرار ہے کہ یہ قدم صنعتی ترقی اور معاشی استحکام کے لیے ناگزیر تھا۔ ماضی میں نافذ کیے گئے قوانین کا مقصد ماحول کو صاف رکھنا اور کاربن کے اخراج کو کم کرنا تھا تاکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹا جا سکے۔ اب ان پابندیوں کے خاتمے کے بعد توانائی کے شعبے سے وابستہ کمپنیوں کو اپنے کاروباری امور چلانے میں بڑی سہولت مل جائے گی اور وہ بغیر کسی اضافی حکومتی دباؤ کے پیداواری عمل کو جاری رکھ سکیں گی۔ اس فیصلے کو ملکی صنعتی حلقوں کی جانب سے سراہا جا رہا ہے جبکہ بین الاقوامی ماحولیاتی تنظیموں نے اس پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں اس پالیسی کے طویل المدتی اثرات امریکی ماحولیات اور معیشت دونوں پر واضح ہوں گے، کیونکہ اس سے ایک طرف جہاں توانائی سستی ہونے کا امکان ہے وہیں دوسری طرف ماحولیاتی آلودگی میں اضافے کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے۔