World
امریکہ کا ایران کے جوہری سربراہ کو ویانا کانفرنس میں شرکت سے روکنے پر اقدام
امریکہ کی جانب سے مبینہ دباؤ کے بعد آسٹریا نے ایرانی جوہری سربراہ محمد اسلامی کا ویزا منسوخ کر دیا۔ تہران نے اس اقدام کو رکن ممالک کے حقوق کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
تہران نے امریکہ پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ واشنگٹن نے آسٹریا کی حکومت پر دباؤ ڈالا ہے کہ وہ ایران کے جوہری سربراہ محمد اسلامی کا ویزا منسوخ کرے۔ ایرانی حکام کے مطابق اس قسم کے اقدامات بین الاقوامی سفارتی آداب اور عالمی اداروں کے بنیادی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہیں، جن کا مقصد ایران کو اہم سفارتی پلیٹ فارمز پر آواز اٹھانے سے روکنا ہے۔ ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ یہ رویہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے اصولوں سے بھی متصادم ہے اور اس سے عالمی امن و سلامتی کے مذاکرات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
دوسری جانب، اس واقعے کے بعد عالمی سطح پر سفارتی ہلچل تیز ہو گئی ہے کیونکہ یہ تنازعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تہران اور مغربی طاقتوں کے درمیان جوہری پروگرام پر کشیدگی پہلے ہی اپنے عروج پر ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اس بات پر زور دیا کہ رکن ممالک کے حقوق کا تحفظ تمام عالمی پلیٹ فارمز کی ذمہ داری ہے، لیکن امریکہ اپنے سیاسی مقاصد کے لیے اداروں پر ناجائز دباؤ ڈال رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس قسم کی رکاوٹیں ایران کے پرامن جوہری مقاصد اور اس کے تکنیکی ترقی کے سفر کو ہرگز نہیں روک سکتیں، اور تہران ہر سطح پر اپنے حقوق کا دفاع جاری رکھے گا۔
ویانا میں منعقد ہونے والی اس اہم کانفرنس میں شرکت کے لیے دنیا بھر کے اعلیٰ حکام اور جوہری امور کے ماہرین جمع ہو رہے تھے، تاہم ایرانی وفد کے سربراہ کو اس طرح روکے جانے سے کانفرنس کی شفافیت پر بھی سوالیہ نشان لگ گئے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے کشیدہ تعلقات میں مزید تلخی پیدا ہوگی اور خطے میں جاری سفارتی ڈیڈ لاک کو توڑنا مزید مشکل ہو جائے گا۔ تہران نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لے اور امریکہ کی جانب سے بین الاقوامی اداروں کے اس مبینہ غلط استعمال کو روکے تاکہ انصاف اور مساوات کے اصولوں کو برقرار رکھا جا سکے۔