LIVE
Loading Breaking News...

اسرائیل میں فلم نازا پر تحقیقات، غداری کا الزام

News Image
اسرائیلی حکام کی جانب سے فلم 'نازا' پر غداری اور یہود دشمنی کو ہوا دینے کے الزامات کے تحت تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس فلم میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ غزہ میں جاری فوجی کارروائیوں کے دوران عام شہریوں کی اموات کو جان بوجھ کر پلان کا حصہ بنایا گیا۔
اسرائیل میں فلمی دنیا اور سیاست کے حلقوں میں اس وقت ہلچل مچ گئی جب حکام نے متنازع فلم 'نازا' کے خلاف باضابطہ تحقیقات کا آغاز کر دیا۔ اس فلم پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ یہ ریاست کے خلاف غداری کے زمرے میں آتی ہے اور اس میں مبینہ طور پر یہود دشمنی کو ہوا دینے والے عناصر پائے جاتے ہیں۔ فلمی ناقدین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نظروں میں آنے والی اس فلم نے جنگی حالات اور سنسرشپ کے حوالے سے ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق فلم 'نازا' میں غزہ کی حالیہ جنگ کے دوران پیش آنے والے المناک واقعات اور اسرائیلی فوجی فیصلوں کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ فلم میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ فوجی حکمت عملی اور فیصلوں کے دوران عام شہریوں کی بڑے پیمانے پر ہونے والی اموات کو باقاعدہ طور پر پلان کا حصہ بنایا گیا تھا۔ اس بیانیے کو اسرائیلی حکام اور قوم پرست حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور اسے ملک کی سلامتی اور دفاعی اداروں کے خلاف پروپیگنڈا قرار دیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب، فلم سازوں اور انسانی حقوق کے حامیوں کا کہنا ہے کہ آرٹ اور سنیما کو سچائی بیان کرنے کی آزادی ہونی چاہیے اور کسی بھی قسم کی تحقیقات کا مقصد تخلیقی آواز کو دبانا ہے۔ اس تنازع نے بین الاقوامی سطح پر بھی توجہ حاصل کر لی ہے جہاں جنگ کے دوران میڈیا اور اظہارِ رائے کی آزادی کے حوالے سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس تحقیقات کے نتیجے میں اسرائیل میں فنون لطیفہ اور سنسرشپ کے قوانین پر مزید سخت بحث متوقع ہے۔