World
یمن میں حوثیوں کی جنگی معیشت اور تجارتی شعبے پر غلبے کی کہانی
حوثیوں نے یمن کے تجارتی شعبے کی مکمل تشکیل نو کرتے ہوئے شدید انسانی بحران کے درمیان اربوں روپے کی آمدنی حاصل کر لی ہے۔ یہ پیشرفت یمن کی مجموعی اقتصادی صورتحال اور خطے میں حوثی اثرورسوخ پر گہرے اثرات مرتب کر رہی ہے۔
یمن میں برسرِ اقتدار حوثی گروہ نے ملک کے تجارتی اور اقتصادی ڈھانچے میں وسیع پیمانے پر تبدیلیاں کرتے ہوئے اپنی جنگی معیشت کو مزید مضبوط کرلیا ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق حوثیوں نے ملک کے تجارتی شعبے کی تشکیلِ نو کی ہے جس کے ذریعے وہ اس شدید انسانی بحران کے باوجود اربوں کی آمدنی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ اس معاشی حکمت عملی نے خطے کی کاروباری سرگرمیوں کو ایک نئے رُخ پر ڈال دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، اس نئی معاشی پالیسی کے تحت اندرونی تجارت اور مالیاتی وسائل پر حوثی قیادت کا کنٹرول مزید مستحکم ہو گیا ہے۔ اگرچہ یمن پہلے ہی تاریخ کے بدترین انسانی بحران سے گزر رہا ہے اور عام شہریوں کو خوراک، صحت اور روزمرہ کی بنیادی سہولیات کی شدید قلت کا سامنا ہے، تاہم اس تمام صورتحال کے باوجود جنگی معیشت کا یہ پھیلاؤ حکمران دھڑے کے مالی وسائل کو مسلسل بڑھا رہا ہے۔
بین الاقوامی برادری اور فلاحی ادارے یمن کی اس بگڑتی ہوئی معاشی اور انسانی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ تجارتی شعبے کی اس جبری تنظیمِ نو اور محصولات کے نئے نظام سے نجی کاروباری طبقے کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جس سے عام لوگوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔