World
آسٹریا کا ایرانی وفد کو داخلے سے انکار، تہران کا شدید ردعمل
آسٹریا نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ایک اجلاس میں شرکت کے لیے آنے والے ایرانی وفد کو ملک میں داخلے سے انکار کر دیا۔ ایران نے اس اقدام کو بیرونی دباؤ کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے سخت احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔
ویانا میں واقع بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ایک اہم اجلاس میں شرکت کے لیے آنے والے ایرانی وفد کو آسٹریا کی جانب سے اچانک ملک میں داخلے سے انکار کر دیا گیا ہے۔ اس واقعے کے بعد تہران اور ویانا کے سفارتی تعلقات میں تناؤ پیدا ہو گیا ہے، جبکہ ایران نے اس فیصلے پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ آسٹریا کی حکومت نے پہلے اس وفد کی آمد اور شرکت کی مکمل منظوری دی تھی، لیکن بعد میں کسی بیرونی دباؤ کے تحت اپنے اس فیصلے کو یکطرفہ طور پر تبدیل کر دیا۔ تہران کے مطابق سفارتی اصولوں کے برخلاف اس قسم کے اقدامات بین الاقوامی اداروں کے کام میں مداخلت کے مترادف ہیں اور اس سے باہمی اعتماد کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ نے اس معاملے پر سخت سفارتی احتجاج ریکارڈ کراتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کی رکاوٹیں عالمی فورمز پر سفارتی مباحثوں کو متاثر کرنے کی ایک سوچی سمجھی کوشش ہیں۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ حالیہ جیو پولیٹیکل صورتحال اور عالمی سطح پر ایران کے جوہری پروگرام پر جاری کشمکش کے تناظر میں یہ واقعہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ دوسری جانب، آسٹریا کے حکام کی طرف سے اس فیصلے کی وجوہات پر تاحال کوئی تفصیلی موقف سامنے نہیں آیا ہے، تاہم بین الاقوامی سطح پر اس تنازعے کے اثرات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ عالمی برادری اور سفارتی حلقے اس بات پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کہ اس طرح کے اقدامات سے اقوام متحدہ اور اس کے ذیلی اداروں کے اجلاسوں میں تمام رکن ممالک کی منصفانہ نمائندگی اور شرکت کے اصول کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔