World
امریکہ کا بین الاقوامی طلباء کے ویزا قوانین میں اہم تبدیلی کا اعلان
امریکہ نے بین الاقوامی طلباء کے لیے 'دورانیہ اسٹیٹس' کا نظام ختم کر کے اسے مقررہ مدت کے داخلے سے تبدیل کر دیا ہے۔ اس نئی پالیسی کے تحت ایف ون طلباء کو اپنے تعلیمی پروگرام کی مدت کے مطابق ہی امریکہ میں رہنے کی اجازت ہوگی۔
واشنگٹن: امریکہ کے محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے بین الاقوامی طلباء کے امیگریشن نظام میں ایک بڑی تبدیلی نافذ کر دی ہے جس کے تحت اب طلباء کو اس بات کا خصوصی خیال رکھنا ہوگا کہ وہ کتنی مدت تک ملک میں رہنے کے مجاز ہیں۔ نئی پالیسی کے تحت ایف ون (F-1) ویزا رکھنے والے طلباء کے لیے طویل عرصے سے چلے آ رہے 'دورانیہ اسٹیٹس' کے نظام کو ختم کر دیا گیا ہے اور اس کی جگہ داخلے کی ایک مقررہ مدت کا نظام نافذ کیا گیا ہے۔ اس تبدیلی کا مقصد طلباء کے قیام کو زیادہ منظم بنانا اور ان کی تعلیمی سرگرمیوں کی کڑی نگرانی کرنا ہے۔ نئی پالیسی کے نفاذ سے طلباء کو اپنے تعلیمی سفر کے دوران اور اس کے اختتام پر انتہائی احتیاط برتنے کی ضرورت پیش آئے گی۔
نئے قوانین کے مطابق ایف ون طلباء کو عام طور پر فارم آئی ٹینٹی پر درج تعلیمی پروگرام کی مدت کے لیے داخلہ دیا جائے گا جو زیادہ سے زیادہ چار سال تک ہو سکتی ہے۔ اس نظام کے تحت پروگرام شروع ہونے سے پہلے آنے کے لیے 30 دن اور تعلیمی کورس یا اس کے بعد کی ٹریننگ ختم ہونے کے بعد روانگی کی تیاری کے لیے بھی صرف 30 دن کا وقت ملے گا۔ ایسے طلباء جنہیں اپنا موجودہ پروگرام مکمل کرنے، کوئی نیا پروگرام شروع کرنے یا دیگر متعلقہ سرگرمیوں کے لیے اضافی وقت کی ضرورت ہوگی، انہیں یو ایس سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروسز (USCIS) میں درخواست دے کر قیام میں توسیع کرانی ہوگی یا پھر امریکہ سے باہر جا کر نئے سرے سے کسٹم اینڈ بارڈر پروٹیکشن سے داخلہ لینا ہوگا۔
امریکہ میں پہلے سے موجود طلباء کے حوالے سے واضح کیا گیا ہے کہ منگل سے نافذ ہونے والی اس تبدیلی کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہر ایف ون طالب علم کو فوری طور پر کوئی نئی درخواست جمع کرانی ہوگی۔ وہ طلباء جو پہلے سے اس پرانے نظام کے تحت امریکہ میں مقیم ہیں، وہ اپنی متعلقہ پروگرام کی آخری تاریخ تک بغیر توسیع کی درخواست دیے رہ سکتے ہیں۔ تاہم، اس دوران اگر کوئی طالب علم بین الاقوامی سفر کرتا ہے اور امریکہ سے باہر جاتا ہے تو واپسی پر اسے نئے مقررہ مدت کے نظام کے تحت ہی داخلہ ملے گا۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی یونیورسٹیز بشمول ہارورڈ، ییل اور سٹینفورڈ اپنے بین الاقوامی طلباء کو سفر کرنے سے پہلے امیگریشن کے متعلقہ حکام سے لازمی مشورہ کرنے کی ہدایت کر رہی ہیں۔
محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے اس بات کا بھی اعلان کیا ہے کہ یہ نئی تبدیلیاں صرف ایف ون طلباء تک محدود نہیں ہیں بلکہ جے ون (J-1) ایکسچینج زائرین اور بعض آئی ویزا ہولڈرز، بشمول غیر ملکی میڈیا کے نمائندوں پر بھی لاگو ہوں گی۔ ان افراد کو بھی اب غیر معینہ مدت کے بجائے ایک مقررہ مدت کے لیے ہی داخلہ دیا جائے گا۔ البتہ یہ تبدیلیاں ایچ ون بی، ایل ون اور بی ون یا بی ٹو جیسے دیگر بڑے نان امیگریشن ویزا زمروں پر لاگو نہیں ہوں گی جو پہلے ہی ایک مقررہ مدت کے تحت کام کرتے ہیں۔ یونیورسٹیز کی جانب سے طلباء کو مشورہ دیا جا رہا ہے کہ وہ اپنے فارم آئی نائٹی فور (I-94)، پروگرام کی آخری تاریخ اور سفر کے ممکنہ اثرات کا بغور جائزہ لیں۔